کسر صلیب

by Other Authors

Page 352 of 443

کسر صلیب — Page 352

: ۳۵۲ اٹھویں دلیل حضرت مسیح علیہ السلام کی صلیبی موت کی تردید میں رہے زبر دست انجیلی دلیل یونس نبی کے نشان سے مشابہت کی دلیل ہے۔اصل واقعہ یہ ہے کہ جب حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب پر لٹکایا جانے لگا تو اس زمانہ کے لوگوں نے ان سے یہ نشان طلب کیا کہ وہ صلیب کے عذاب سے بیچ کر دکھائیں اس کے جواب میں حضرت مسیح نے یہ فرمایا : - اس زمانہ کے بیر سے اور زنا کا رلوگ نشان طلب کرتے ہیں مگر یوناہ کے نشان کے سوا کوئی اور نشان ان کو نہ دیا جائے گا " رمتی ہے) N - پھر ایک اور مقام پر لوں لکھا ہے کہ : - اُس نے جواب دے کر ان سے کہا کہ اس نہ مانے کے برسے اور زنا کا ر لوگ نشان طلب کرتے ہیں مگر یونس نبی کے نشان کے سوا کوئی اور نشان ان کو نہ دیا جائے گا۔کیونکہ جیسے یونس تین رات دن مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسے ہی ابن آدم تین رات دن زمین کے اندر رہے گا " (متی ) ان حوالوں سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ اسلام سے صرف ایک نشان دکھانے کا وعدہ کیا تھا اور اس پر حصر کیا تھا۔یہ نشان یونس نبی کا نشان تھا۔اس نشان کے سلسلہ میں بائیبل ہی میں یہ لکھا ہے :۔یوناہ تین دن رات مچھلی کے پیٹ میں رہا۔تب یوناہ نے چھلی کے پیٹ میں خداوند اپنے خدا سے دعا مانگی یہ ریوناہ 7 د ) پس خلاصہ یہ ہوا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے لئے لازم تھا کہ وہ بھی حضرت یونس علیہ السلام کی طرح تین دن رات زمین کے اندر رہتے اور زندہ داخل ہوتے ، نہ ندہ زمین رہتے اور زندہ ہی باہر نکل آتے تا انکی یونس سے مشابہت پوری ہوتی اور ان کا وہ وعدہ پورا ہوتا کہ اس زمانہ کے لوگوں کو صرف یہ ایک نشان دکھلایا جائے گا۔حضرت مسیح علیہ السلام کے صلیب سے نجات پانے پر ہمارا بہت ہی سادہ لیکن واضح او قطعی استدلال یہ ہے کہ اگر حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر مر گئے ہوں تو پھر ان کی حضرت یونس علیہ السلام کے معجزہ سے مشابہت تو کی باطل، ان کا قول غلط اور ان کی پیش گوئی جھوٹی ثابت ہوتی ہے اور یہ مکن نہیں کہ نبی کا قول باطل ہو۔مزید برای اس پیشگوئی کے غلط ہونے کی صورت میں ان کی صداقت، نبوت اور معصومیت کے سب دعاوی