کسر صلیب

by Other Authors

Page 286 of 443

کسر صلیب — Page 286

PAY جناب سے رد نہ کر سے اور اس سے بدل بیزار نہ ہو اور اس کا دشمن نہ ہو جائے اور اسکی دل کو سخت اور اپنی محبت اور معرفت سے دور اور محروم نہ کر دیر سے یعنی جب تک کہ اس کو لعنتی نہ بناد سے اور مجرموں میں اس کو داخل نہ کر ے۔۔۔۔پنچ کہو کیا دنیا میں کوئی عقل قبول کر سکتی سے ہے کہ جو شخص آپ ہی لعنتی ہو پھر وہ کسی کے لئے خدا تعالٰی کی جناب میں سفارش کر سکے۔دیکھو عیسائی مذہب میں کس قدر بے ہودہ اور دورانہ عقل و دیانت باتیں ہیں کہ اول ایک شخص عاجہ مصیبت رسیدہ کو ناحق ہے ذخیرہ خدا بنایا جاتا ہے۔پھر نا حق ہے وجہ یہ اعتقاد رکھا جاتا ہے کہ وہ لعنتی ہو گیا۔خدا است بیزالہ ہو گیا اور وہ خدا سے بیزالہ ہو گیا۔خدا اس کا دشمن ہو گیا وہ خدا کا دشمن ہو گیا۔خدا اس سے دُور ہو گیا اور وہ خدا سے دُور ہو گیا۔پھران سب کے بعد یہ اعتقاد بھی ہے کہ ایسی لعنتی موت پر ایمان لانے سے تمام گناہوں کو اخذہ سے فراغت ہو جاتی ہے کہ لے " قانون قدرت میں اعمال اور ان کے نتائج کی نظریں تو موجود ہیں کفارہ کی نظیر کوئی موجود نہیں۔مثلاً بھوک لگتی ہے تو کھانا کھا لینے کے بعد وہ فرو ہو جاتی ہے یا پیاس لگتی ہے پانی سے جاتی رہتی ہے تو معلوم ہوا کہ کھانا کھانے یا پانی پینے کا نتیجہ بھوک کا جاتے رہنا یا پیاس کہ کا رہنایا کا مجھے جانا ہوا۔مگر یہ تو نہیں ہوتا کہ بھوک لگے زید کو اور بنجر کروٹی کھائے اور زید کی بھوک جاتی رہے۔اگر قانون قدرت میں اس کی کوئی نظیر موجود ہوتی تو شاید کفارہ کا مسئلہ مان لینے کی گنجائش نکل آتی مگر جب قانون قدرت میں اس کی کوئی نظیر ہی نہیں ہے تو انسان جو نظیر دیکھ کو ماننے کا عادی ہے اسے کیو نکہ تسلیم کو سکتا ہے۔عام قانون انسانی میں بھی تو اسکی نظیر نہیں ملتی ہے کبھی نہیں دیکھا گیا کہ زید نے خون کیا ہو اور خالہ کو پھانسی ملی ہو۔غرض یہ ایک ایسا اصول ہے جس کی کوئی نظیر ہرگز موجود نہیں؟ له ان سب حوالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ کفارہ کا مسئلہ عقل کے خلاف ہے لہذا باطل ہے :- سولہویں دلیل کفارہ کی تردید میں ایک اور دلیل یہ ہے کہ کفارہ کا مسئلہ عدل کے خلاف ہے۔عیسائی تو اس مسئلہ کو درست ثابت کرنے کے لئے عدل کو بنیاد بناتے ہیں اور یوں کہا کرتے ہیں کہ خدا چونکہ عادل ہے اسلئے بغیر له : ايام الصلح مثنت ۱۰۹ جلد ۱۴ : ه: عفوظات جلد اول مشك : 14A