کسر صلیب

by Other Authors

Page 278 of 443

کسر صلیب — Page 278

YCA لوگوں کو معاف کرتا رہا ہے اب بھی معاف کرد سے۔خدا وند نے کہا کہ میں نے تیری درخواست کے مطابق معاف گیا" رگنتی / اسی طرح پر شفاعت سے گناہ معاف ہونے کا ذکر استثناء 4 اور خروج پہ میں بھی ہے۔ان سب حوالوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ضروری نہیں کہ خدا ہر موقع پر اپنے عدل کے تقاضا کو پورا کرے اور سناہی دے بلکہ وہ عدل کے بغیر بھی رحم کر سکتا ہے اور کسی نبی یا بزرگ انسان کی شفاعت سے گناہ اور خطا کو معاف کہ سکتا ہے۔اسی کا نام رحم بلا مبادلہ کرتا ہے۔پس ثابت ہوا کہ خدا کو یہ طاقت حاصل ہے کہ وہ رحم بلا مبادلہ کہ سے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس سلسلہ میں فرماتے ہیں :- و توریت کے رو سے بہت سے مقامات ایسے ثابت ہوتے ہیں جس کی آپ (عیسائیوں " ناقل) کا مسئلہ رحم بلا مبادلہ باطل ٹھہرتا ہے پھر اگر آپ تو ریت کو حق اور منجانب اللہ مانتے ہیں تو حضرت موسیٰ کی وہ شفاعتیں جن کے ذریعہ سے بہت مرتبہ بڑے بڑے گناہگاڑی کے گناہ بخشے گئے نکلتی اور بے کا ر ٹہرتی ہیں۔اے سے نیز فرمایا : جب ہم نظر غور سے دیکھتے ہیں تو ہیں معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ نیکوں کی شفاعت یدوں کے گناہ بخشے گئے ہیں دیکھو گنتی باب ہم ایسا ہی گنتی و استثناء و خروج اے رحم بلا مبادلہ کے جوانہ میں ایک اور دلیل یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے عام قانون قدرت میں ایسی بیشمار مثالیں ملتی ہیں کہ وہ دنیا میں رحم بلا مبادلہ کرتا ہے۔پس قانون قدرت کی شہادت ثابت کرتی ہے کہ رحم بلا مبادلہ ہو سکتا ہے۔حضور علیہ السلام فرماتے ہیں :- قانون قدرت صاف شہادت دے رہا ہے کہ خدا تعالیٰ کا رحم بلا مبادلہ قدیم سے جاری ہے جس قدر خدا تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کر کے اور طرح طرح کی نعمتیں انسانوں کو بخش کہ اپنا رجم ظاہر کیا ہے کیا اس سے کوئی انکار کر سکتا ہے جیسا کہ اللہ جلشانہ فرماتا ہے وان تعدوا نعمت الله لا تحصوها (س ) یعنی اگر تم خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو گینا چاہو تو ہر گنہ (ش) گن نہیں سکتے۔“ سے رحم بلا مبادلہ کے حق میں ایک اور دلیل یہ ہے کہ انجیل کی رو سے انسانوں کو دنیا میں اپنے گناہگاروں -:- جنگ مقدس ملا جلد ہ ہے ه :- جنگ مقدس ص!! جلد ۶ + ت:-