کسر صلیب — Page ii
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم پیش لفظ اللہ تعالیٰ کا بے حد احسان ہے کہ اس کی دی ہوئی توفیق سے زیر نظر تصنیف افادۂ عام کیلئے شائع کی جارہی ہے۔اس کا مختصر تعارف یہ ہے کہ جب خاکسار نے جامعہ احمدیہ سے شاہد کا امتحان پاس کیا تو اس غرض سے ایک مقالہ سپر ظلم کرنے کا موقع ملا جس کا موضوع تھا :۔حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کا علم کلام - (عیسائیتے کے ہومیں اس میں علم کلام کی تفصیلی بحث کے بعد ان دلائل کو ایک خاص ترتیب سے پیش کیا گیا ہے جو سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عیسائیت کے رومیں بیان فرمائے ہیں۔الحمد للہ کہ مقالہ کے ہر دو نگران علمائے کرام یعنی میرے والد محترم ، خالد احمدی نے حضرت مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری اور حضرت قاضی محمد نذیر صاحب سے فاضل نے مقالہ کو بالاستیعاب مطالعہ کرنے کے بعد عمدہ آراء کا اظہار فرمایا۔مزید بر آن چند سال قبل حضرت ملک سیف الرحمن صاحب مفتی سلسلہ نے بھی لندن میں اس کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد اپنی قیمتی رائے تحریر فرمائی۔یہ تینوں مؤقر آراء (جو اس کتاب میں شامل ہیں ، جب سید نا حضرت خلیفہ مسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں پیش ہوئیں تو حضور انور نے از راہ شفقت ارشاد فرمایا کہ یہ مقالہ فوری طور پر شائع کروایا جائے نیز اس کا انگریزی، عربی اور ترکی زبانوں میں ترجمہ بھی کروایا جائے۔حضور انور کے ارشاد مبارک کی تعمیل میں اور حضور ہی کی نظر التفات کی برکت سے اب یہ مقالہ " کسر صلیب کے مختصر نام سے کتابی شکل میں شائع ہو رہا ہے۔ہر چیز کا ایک اندازہ مقدر ہے اور ہر کام اپنے وقت پر ہی ہوتا ہے۔یہ مقالہ ۱۹۶۹ء میں لکھا گیا لیکن اس کی اشاعت کا علمی کام 1991 ء سے پہلے نہ ہو سکا۔تاخیر تو ہوئی لیکن اس میں ایک عجیب توارد کا پہلو یہ ہے کہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ اسلام نے ۶۱۸۹۰ کے آخر میں دعوی مسیحیت فرمایا اور اس دعوتی کی عملاً اشاعت اور تشہیرا ۱۸۹ء میں