کسر صلیب

by Other Authors

Page 111 of 443

کسر صلیب — Page 111

FIL کوئی ناصر اور مددگار قرار نہ دینا اور دوسرے یہ کہ اپنی محبت اس سے خاص کرنا ، اپنی عبادت اسی خاص کرنا۔اپنا تذللی اسی خاص کرنا۔اپنی امیدیں اس سے خاص کرنا اپنا خوف اسی خاص کرنا نہیں کوئی توحید بغیر ان تین قسم کی تحقیق کے کامل نہیں ہو سکتی۔اولھے ذات کے لحاظ سے توحید یعنی یہ کہ اس کے وجود کے مقابل پر تمام موجودات کو معدوم کی طرح سمجھنا اور تمام کو ہالہ الذات اور باطلتہ الحقیقت خیال کرنا۔دوم صفات کے لحاظ سے توحید یعنی یہ کہ ربوبیت اور الوہیت کی صفات بجز ذات باری کسی میں قرار نہ دیا اور جو بظا ہر رب الانواع یا فیض رساں نظر آتے ہیں یہ اسی کے ہاتھ کا ایک نظام یقین کرنا۔تیسرے اپنی محبت اور صدق اور صفا کے لحاظ سے توحید یعنی محبت وغیرہ شعار عبودیت میں دوسرے کو خدا تعالیٰ کا شریک نہ گرداننا اور اس میں کھوئے جانا یہ ہے (۴) یاد رہے کہ توحید کے تین درجے ہیں سب سے ادنی درجہ یہ ہے کہ اپنے جیسے مخلوق کی پرستش نہ کریں نہ پتھر کی نہ آگ کی نہ آدمی کی نہ کسی ستارہ کی۔دوسرا درجہ یہ ہے کہ اسباب پر بھی ایسے نہ گریں کہ گویا ایک قسم ک ان کو دربوبیت کے کارخانہ میں مستقل دخیل قرار دیں بلکہ ہمیشہ مسبب پر نظر رہے نہ اسباب پر تیسرا درجہ توحید کا یہ ہے کہ تجلیات الہیہ کا کامل مشاہدہ کر کے ہر یک غیر کے وجود کو کالعدم قرار دیں اور ایسا ہی اپنے وجود کو بھی۔غرض سر یک چیز نظر میں خانی دکھائی دے۔بجز اللہ تعالیٰ کی ذات کامل الصفات کے۔یہی روحانی زندگی ہے کہ یہ مراتب ثلاثہ تو حید کے حاصل ہو جائیں " اسلام کا پیارا خدا اسلام نے جس توحید اور واحد خُدا کے تصور کو پیش کیا ہے اس کے ذکر سے سیدنا حضرت نے مسیح موعود علیہ السلام کی کتب بھری پڑی ہیں۔نمونہ کے طور پر میں چند سوالے ذیل میں درج کرتا ہوں جن سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ اسلام نے دنیا کے سامنے جس واحد و یگانہ خدا کو پیش کیا : سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب طلت ۲۲ - روحانی خزائن جلد ۱۲ : آئینہ کمالات اسلام ۲۲ ۲۲۲ - روحانی خزائن جلد ۵۶ :