کسر صلیب

by Other Authors

Page 424 of 443

کسر صلیب — Page 424

۴۳۴ (A) اوئی اوئی طبابت کا مذاق رکھتے والے بھی جانتے ہیں۔یہانتک کہ قرا با دین قادری میں بھی جوہ ایک فارسی کی کتاب ہے تمام مرہموں کے ذکر کے باب میں اس سرہم کا نسخہ بھی لکھا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ یہی مریم حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے بنائی گئی تھی۔پس اسے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوگا کہ دنیا کے تمام طبیبوں کے اتفاق سے جو ایک گروہ خواص ہے جن کو سب سے زیادہ تحقیق کرنے کی عادت ہوتی ہے۔اور مذہبی تعصبات سے پاک ہوتے ہیں یہ ثابت ہو گیا ہے کہ یہ مرہم حواریوں نے حضرت علی علیہ السلام کی چوٹوں کے لئے طیارہ کی تھی یاسان چالیس دن تک ان کے ان زخموں کا اس مرہم کے ساتھ علاج ہوتا رہا جس کو قرا با دیوں میں مریم معینی یا مرسم رس یا مرسم حوار بین کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔یہ مرہم چوٹ وغیرہ کے زخموں کے لئے بہت مفید ہے اور قریبا طب کی ہزارہ کتاب میں اس مرہم کا ذکر ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی چوٹوں کے لیئے اس کو بنا یا گیا تھا۔وہ پورانی طب کی کتابیں عیسائیوں کی جو آج سے چودہ سو برس پہلے رومی زبان میں تصنیف ہو چکی تھیں ان میں اس مرہم کا ذکر ہے اور یہودیوں اور مجوسیوں کی طبابت کی کتابوں میں بھی یہ نسخہ مرہم عیسی کا لکھا گیا ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرہم الہامی ہے اور اس وقت جبکہ حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب پر کسی قدر زخم پہنچے تھے انہی دنوں میں خداتعالی نے بطور الہام یہ دوائیں ان پر ظاہر کی تھیں " سے (9) عیسائی اور رومی اور یہودی اور مجوسی دفتروں کی قدیم طبی کتابیں جو اب تک موجود ہیں گواہی دے رہی ہیں کہ عیسوع کی چوٹوں کے لئے ایک مرہم طیارہ کیا گیا تھا جس کا نام مرہم عیسی ہے جو اب تک قرا با دنیوں میں موجود ہے۔نہیں کہ سکتے کہ وہ مرہم نبوت کے زبانہ سے پہلے بنا ہو گا کیونکہ یہ مرہم حواریوں نے طیار کیا تھا اور نبوت سے پہلے حواری کہاں تھے کبھی نہیں کہ سکتے کہ ان زخموں کا کوئی اور باعث ہوگا نہ صلیب کیونکہ نبوت کے تین برس کے عرصہ میں کوئی اور ایسا واقعہ ہجر صلیب ثابت نہیں ہو سکتا اور اگر ایسا دعویٰ ہو تو بارہ ثبوت بذمہ مدعی ہے۔جہائے شرم ہے کہ یہ خدا اور یہ زخم اور یہ مرہم !" سے (۱۰) ایک اعلی درجہ کی شہادت جو حضرت مسیح کے مصیب سے بچنے پر ہم کو ملی ہے اور جوانیسی " شہادت ہے کہ بحجر مانے کے کچھ بن نہیں پڑتا۔وہ ایک نسخہ ہے جس کا نام مریم علی ہے ه : کتاب البرية م۔جلد ١٣ : ے: سراج منیر - ۶۴ - جلد ۱۲ : ۲۱ ود کتاب البرية حت - جلد ۱۳