کسر صلیب — Page 324
*** کرنے کے واسطے کیوں مدرسوں میں محنتیں اور کوششیں کرتے ہیں۔چاہیے کہ وہ صرف میسیج کے خون پر بھروسہ رکھیں اور اسی سے کامیاب ہو دیں اور کوئی محنت نہ کریں۔اور مسلمانوں اور کے بچے محنتیں کر کر کے اور ٹکریں مار مار کے پاس ہوں۔اصل بات یہ ہے لیس للانسان إلا ما سعی۔۔۔۔۔۔۔جب خون مسیح پر مدار ہے تو مجاہدات کی کیا ضرورت ہے۔انکی جھوٹی تعلیم سمی ترقیات سے روک رہی ہے۔۔۔۔۔ان لوگوں کو جو ولایت میں خوب سیج پر ایمان لاکر بیٹھتے ہیں کوئی پوچھے کہ کیا حاصل ہوا۔مردوں اور عورتوں نے خون پر ایمان لاکر کیا ترقی کی لے (۱۴) " عیسائی لوگ۔۔۔۔۔۔اعمال میں مستعد نہیں ہوسکتے۔کیونکہ کفارہ کا مسئلہ جب ان کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ مسیح نے ان کے سارے گناہ اٹھا لئے۔پر مجھ میں نہیں آتا کہ وہ کونسی چیز ہو سکتی ہے جو ان کو اعمال کی طرف متوجہ کرے۔اعمال کا مدعا تو نجات ہے اور یہ انکو با شقت محنت صرف خونِ مسیح پر ایمان رکھنے سے کہ وہ ہمارے لئے مر گیا ، ہمارے گناہوں کے بدا لعنتی ہوا۔مل جاتی ہے تو اب نجات کے سوا کیا چاہیے۔پھر ان کو اعمال حسنہ کی ضرورت کیا باقی رہی۔اگر کفارہ پر ایمان لاکر بھی نجات کا خطرہ اور اندیشہ پاتی ہے تو یہ امر دیگر ہے کہ اعمال کئے جائیں لیکن اگر نجات خون سیح کے ساتھ ہی وابستہ ہے تو کوئی عقلمند نہیں مان سکتا کہ پھر ضرورت اعمال کی کیا باقی ہے" سے (۱۵) " در حقیقت صلیبی اعتقاد ایک ایسا عقیدہ ہے جو ان لوگوں کو خوش کر دیتا ہے جو سچی پاکیزگی حاصل کرنا نہیں چاہتے اور کسی ایسے نسخہ کی تلاش میں رہتے ہیں کہ گندی زندگی بھی ہے موجود ہو اور گناہ بھی معاف ہو جائیں۔لہذا وہ باوجود بہت سی آلودگیوں کے خیال کر لیتے ہیں کہ فقط خونِ مسیح پر ایمان لانے سے گناہ سے پاک ہو گئے۔مگر یہ پاک ہونا در حقیقت ایسا ہی ہے جیسا کہ ایک پھوڑا جو پیسے بھرا ہوا ہو اور باہر سے چمکتا ہوا نظر آئے" سے (14) ”میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ جب کفارہ کا عقیدہ ہو تو اللہ تعالیٰ کے مواخذہ کا خوف رہ کیو کر سکتا ہے؟ کیا سچ نہیں ہے کہ ہمارے گناہوں کے بدلے مسیح پر سب کچھ والہ دہو گیا۔یہاں تک کہ اسے معنون قرار دیا اور تین دن تصاویہ میں رکھا۔ایسی حالت میں اگر گناہوں کے بد سے سزا ہو تو پھر کفاریہ کا کیا فائدہ ہوا۔اصول کفارہ ہی چاہتا ہے کہ گناہ کیا جائے۔۱۵- ملفوظات جلد چهارم مه ۴۳ - ۲۲۶ به - ملفوظات جلد چهارم من : و براہین احمدیہ حصہ پنجم مٹ جلد ۲۱ ؛