کسر صلیب — Page 277
۲۷۷ ہے اور ان دونوں صفتوں میں کوئی ایسا تضاد نہیں کہ یہ بیک وقت جمع نہیں ہو سکتیں۔حضور فرماتے ہیں:۔یہ دس دسہ کہ عدل اور رحم دونوں خدا تعالیٰ کی ذات میں جمع نہیں ہو سکتے کیونکہ عدل کا تقاضا ہے کہ سزا دی جائے اور رحم کا تقاضا ہے کہ در گندر کی جائے۔یہ ایک ایسا دھوکہ ہے کہ جس میں قلت تدبیر سے کو نہ اندیش عیسائی گرفتار ہیں۔وہ غور نہیں کرتے کہ خدا تعالے کا عدل بھی تو ایک رحم ہے وجہ یہ کہ وہ سراسر انسانوں کے فائدہ کے لئے ہے۔مثلاً اگر خدا تعالیٰ ایک خونی کی نسبت باعتبار اپنے عدل کے حکم فرماتا ہے کہ وہ مارا جائے تو اس سے اس کی الوہیت کو کچھ فائدہ نہیں بلکہ اس لئے چاہتا ہے کہ تا نوع انسان ایک دوسرے کو مار کر نابود نہ ہو جائیں۔سو یہ نوع انسان کے حق میں رحم ہے اور یہ تمام حقوق عباد خدا تعالیٰ نے اسی لئے قائم کئے ہیں کہ تا امن قائم کر ہے اور ایک گروہ دوسرے گروہ پر ظلم کر کے دنیا میں فساد نہ ڈالیں۔سو یہ تمام حقوق اور سزائیں جو مال اور جان اور آبرو کے متعلق نہیں در حقیقت تورع انسان کے لئے ایک رحم ہے؟ ملالہ نیز فرمایا : حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا عدل ہی بجائے خود ہے اور رحم بجائے خود ہے جو لوگ اچھے کام کر کے اپنے تئیں رحم کے لائق بناتے ہیں ان پر رحم ہو جاتا ہے اور جولوگ مادر کھانے کے کام کرتے ہیں ان کو مار پڑتی ہے پیس عدل اور رحم میں کوئی جھگڑا نہیں۔گویا دو نہریں ہیں جو اپنی اپنی جگہ پر چل رہی ہیں۔ایک نہر دوسرے کی ہر گنہ مزاحم نہیں ہے"۔الغرض آپ نے یہ اصول ثابت فرمایا ہے کہ عیسائیوں کا یہ کہنا کہ خدار تیم بلا مبادلہ اس وجہ سے نہیں کر سکتا کہ صفت عدل اور رحم کے تقاضے آپس میں ٹکراتے ہیں۔بالکل غلط ہے۔عدل اور رحم کی صفات اپنی اپنی مستقل حیثیت رکھتی ہیں ان میں با ہم کوئی ٹکراؤ نہیں۔اس اصول کی وضاحت کے بعد حضورہ نے رحم بلا مبادلہ کے جوا نہ میں بہت سے دلائل دیئے ہیں ایک دلیل آپ نے یہ دی ہے کہ اگر یہ کہا جائے کہ خدارحم بلا مبادلہ نہیں کر سکتا تو کیا وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ اور دوسر سے بزرگوں کی سفارش اور شفاعت سے گناہگاروں کے گنا بجتے گئے۔اگر یہ اصول ایسا ہی حکم تھا تو اس وقت کیوں یہ اصول روک نہ بن گیا۔بائبل میں لکھا ہے : " سو تو اپنی رحمت کی فراوانی سے اس امت کا گناہ جیسے تو مصر سے لے کر یہانتک ان کہ -- - كتاب البرية صت جلد ١٣ : : : کتاب البرية من جلد ۱۳ :