کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 338 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 338

66 درشت کلامی ایک استثنائی صورت تھی۔جو قابل اعتناء نہیں۔“ ایک رکن مجلس کا تاثر تحدیث نعمت ایڈیشن اول دسمبر 1971 ء صفحہ 533 تا 534) اس کے بعد اُن کے بودے دلائل پر ایک ایک کر کے تنقید وجرح کی جس کا اراکین پر اتنا اچھا اثر ہوا کہ چند سال بعد کولمبیا کے نمائندے نے چوہدری صاحب سے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا: د کشمیر کے معاملہ میں ہندوستانی نمائندہ کی پہلی تقریر سننے کے بعد مجلس امن کے اراکین کی اکثریت کا یہ تاثر تھا کہ پاکستان نے آزادی حاصل کرتے ہی فساد کا راستہ اختیار کر لیا ہے اور دنیا کے امن کے لئے۔ایک خطرے کی صورت پیدا کر دی ہے۔لیکن جب جواب میں تمہاری طرف سے اصل حقیقت کے رُخ سے پردہ ہٹایا گیا تو ہم سب نے سمجھ لیا کہ ہندوستان مکاری اور عیاری سے کام لے رہا ہے اور کشمیر کی رعایا پر ظلم ہو رہا ہے۔اور ہمارا یہ تاثر بعد میں کسی وقت بھی زائل نہیں ہوا۔“ مہاجن کی تصریحات ( تحدیث نعمت صفحہ 533) چوہدری صاحب کی مجلس امن میں مدلل و مبسوط بحث کا تاثر اتنا گہرا تھا کہ مسٹر مہر چند مہاجن (جن کا ذکر پہلے آچکا ہے) نے ایک دفعہ انہیں پر اپنے جلے دل کے پھپھولے اس طرح پھوڑے لکھتے ہیں: وو (ترجمه) " سر محمد ظفر اللہ پاکستانی وفد کے سربراہ تھے۔342