کشمیر کی کہانی — Page 281
اس کی محرابوں اور جدولوں پر عقل و دانش سے استحکام کی گل کاریوں کا وقت آیا تو کشمیر کے بعض فرزند شر نفس اور سیاسی حرص و آز کے سحر میں آگئے اور انہوں نے سیاسی مصلحت اندیشی کو چوغہ پہن لیا۔لیکن فطرت کو ان کی احسان ناشناسی پسند نہ آئی اور وہ بے مثل جد و جہد با برکت پھل دیئے بغیر ہی ادھوری رہ گئی۔اللہ تعالیٰ کی ان گنت برکات نازل ہوں اُس بے نفس بزرگ اور مظلومی کشمیر کے اُس محسن پر جس نے اس بے وفائی کے باوجود تقسیم ملک کے بعد بھی جد و جہد قائم رکھی اور اپنے مقدور کی انتہا تک جاتے۔در تے۔قدمے سخنے کشمیری بے خانمانوں کو سہارا دیا۔کاش عین وقت پر بعض کشمیری راہنما ہندویت کے سیاسی دام میں نہ پھنس جاتے اور اے کاش ! اللہ تعالیٰ کا وہ برگزیدہ انسان اپنی آنکھوں سے اُس پودے کو سرسبز لہلہاتے اور میٹھے پھل دیتا ہوا دیکھتا۔جس کا بیج اس نے اپنے ہاتھوں سے انتہائی اخلاص اور بے نفسی سے بویا تھا۔خاکسار ظہور احمد ۱۴ / اگست ۱۹۶۵ء 285