کشمیر کی کہانی — Page 242
غلط نہی پیدا نہ ہو کہ ارکان کمیٹی صدر اور سیکرٹری کے عہدے دو بزرگوں کی خدمت میں پیش کرنے کے باوجود نئے صدر اور سیکرٹری کے انتخاب کی تدابیر پیش نظر رکھتے ہیں۔( روز نامه انقلاب ۱۰ ستمبر ۶۳۳) سر محمد اقبال کو صدارت کی پیشکش ۳ ستمبر کو لاہور کے مقام پر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا جو اجلاس ہوا اس کی کچھ تفصیل اوپر آچکی ہے۔اس اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا:۔اتحاد و اتفاق قائم رکھنے کے لیے ڈاکٹر سر محمد اقبال اور خان بہادر حاجی رحیم بخش صاحب کو علی الترتیب کشمیر کمیٹی کی صدارت اور سیکرٹری شپ کے عہدے پیش کیے جائیں اور ۱۶ ستمبر کو شملہ میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا ایک اجلاس منعقد ہو جس میں ان اصحاب کی طرف سے موصول شدہ جوابات کی روشنی میں عہدہ داران کے تقرر کے سوال کا آخری فیصلہ کیا جائے۔۔۔۔چنانچہ ۱۶ ستمبر کو شملہ میں یہ اجلاس زیر صدارت نواب ابراہیم علی خاں صاحب آف کنجپورہ (ایم۔ایل۔اے) منعقد ہوا۔حاجی رحیم بخش صاحب نے یہ عہدہ قبول کرنے سے معذوری پیش کی تھی اور سر محمد اقبال صاحب نے بعد میں جواب دینے کا وعدہ کیا تھا اس لیے نئے عہدہ داران کا انتخاب نہ ہو سکا۔البتہ کام جاری رکھنے کے لیے عبوری انتظام کرایا گیا۔اور بدستور سابق کام ہوتا رہا اور اس عرصہ میں بھی اہالیان کشمیر کی گراں قدرا مداد کی گئی۔مسلم کانفرنس کا دوسرا سالانہ اجلاس سال کے آخر پر کشمیر میں میر پور کے مقام پر مسلم کانفرنس کا دوسرا سالانہ اجلاس منعقد ہوا۔اس اجلاس کی کامیابی دلیل تھی اس بات کی کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے اندرون ریاست 246