کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 184 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 184

کشمیر کمیٹی کا رکن ہونے کی حیثیت سے کشمیر بھجوایا گیا۔وہ وہاں کا نفرنس کو کامیاب بنانے کے لیے مفید کام کر رہے تھے۔کہ "زمیندار" والوں کو بھی جوش آیا اور مولانا اختر علی سری نگر پہنچ گئے۔انہوں نے پہنچتے ہی ایک طرف سید حبیب کے خلاف خوب زہرا گلا اور دوسری طرف اپنے آپ کو صلح کا پیغامبر ظاہر کر کے یہ پیش کش کی کہ وہ مسلمانوں میں صلح کرا سکتے ہیں۔لیکن فریقین نے ان سے علی الاعلان بیزاری کا اظہار کیا اور پچھلے سال کی طرح اس سال بھی ان کا دورہ ناکام رہا۔اختر علی نے کشمیر میں دو تین ماہ جیسے گزارے اس کا علم کشمیر کے لوگوں کو بھی ہوتا رہتا تھا۔یہی باتیں ان کے خلاف نفرت بڑھانے کا موجب ہوئیں۔پنجاب کے مسلم پریس کے حصہ کانفرنس کو کامیاب بنانے کے پنجاب کے مسلم پر یس نے بھی بڑے زور دار مضامین لکھے۔مثلاً مؤثر اخبار الفضل“ نے لکھا:۔اس کا نفرنس میں مسلمانوں کے جس قدر زیادہ نمائندے شامل ہوں گے۔اسی قدر زیادہ فائدہ مرتب ہوگا۔ایک طرف تو حکومت بآسانی یہ اندازہ لگا سکے گی کہ ہر حصہ اور ہر طبقہ کے مسلمان حقوق طلبی کے لیے کیسے صادقانہ جذبات رکھتے ہیں اور دوسری طرف وہ راہنما جن کے کندھوں پر ساری قوم کی راہنمائی کی نازک ذمہ داری عائد ہے انہیں مشورہ طلب اُمور میں اپنی قوم کے زیادہ سے زیادہ نمائندوں کی آراء سے آگا ہی ہو سکے گی اور آئندہ کے لیے بہترین لائحہ عمل تجویز کیا جاسکے گا۔پس ضرورت ہے کہ ریاست کے ہر حصہ اور ہر علاقہ کے مسلمان نمائندے اس کا نفرنس میں شریک ہوں تکلیف اُٹھا کر شریک ہوں۔اپنی غربت اور افلاس کے 188