کشمیر کی کہانی — Page 123
سن را ئیز اس میں مداخلت ممکن نہ ہو تو مہربانی فرما کر مجھے اطلاع کر دیں تا کہ میں مسلمانان کشمیر کو اطلاع دے سکوں کہ اب اُن کے لیے سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ یا تو جد و جہد میں ہی اپنے آپ کو فنا کر دیں اور یا دائمی غلامی پر رضامندی ہو جائیں۔۔66 ہفت روزہ انگریزی اخبار ”سن رائیز نے کشمیریوں کے موقف کی تائید میں نہایت معرکۃ الاراء مضامین شائع کئے اس کے ایڈیٹر ملک غلام فرید (ایم۔اے) تھے۔یہ وہ اخبار تھا۔جس کے مضامین دوسرے اخبارات بھی نقل کیا کرتے تھے۔اور لنڈن میں پارلیمنٹ کے ممبروں اور انڈیا آفس کے افسران تک یہ اخبار پہنچتا تھا۔اس اخبار کے ایڈیٹوریل عموماً محترم میرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب آل انڈیا کشمیر کمیٹی ہی کے لکھے ہوئے ہوتے تھے۔جسے ملک صاحب ( ایسی اعلیٰ قابلیت کا اخبار نویس ) عمدہ انگریزی میں ترجمہ کر کے شائع کرتا تھا۔اقبال وفرید ملک غلام فرید ایم۔اے کی ایک مرتبہ ڈاکٹر سر محمد اقبال سے ملاقات ہوئی کشمیر کمیٹی کے صدر کے ذکر پر ڈاکٹر صاحب نے فرمایا:۔وو ملک صاحب سچی بات تو یہ ہے کہ جب کشمیر میں تحریک آزادی شروع ہوئی اور ہم نے دیکھا کہ بچارے کشمیریوں کو مہاراجہ تباہ کر کے رکھ دے گا۔تو مجھے اور دیگر مسلمان لیڈروں کو خیال پیدا ہوا کہ کشمیریوں کی کیسے مدد کی جائے۔ہم نے سوچا اگر ہم نے جلسے وغیرہ کئے 127