کشمیر کی کہانی — Page 12
تھا۔آج کشمیر کا مسئلہ (پاک و بھارت دونوں ملکوں میں ) جس گہری دلچسپی اور اہمیت کا حامل ہے اس کی تشریح و توضیح کی چنداں ضرورت نہیں ہر روز نہیں تو ہر دوسرے یا تیسرے دن اس پر کسی نہ کسی جریدے میں کوئی اداریہ۔افتتاحیہ تبصرہ یا تجزیہ ضرور شائع ہوتا رہتا ہے۔مجھے یہ دیکھ کر اکثر دکھ ہوتا تھا کہ دانستہ یا نادانستہ۔عدم واقفیت کی بنا پر یا سیاسی مصلحت اندیشیوں کے تحت مسلمانان کشمیر کی آزادی وفلاح کے لئے اولین ہمہ گیر تحریک ( جو آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے شروع کی تھی) کے بارے میں اکثر غلط یا غلط نہی و غلط اندیشی پرمبنی باتیں شائع ہوتی ہیں۔میں نے مقدور بھر ان غلط فہمیوں کے ازالہ کی کوشش بھی کی۔بیشتر جرائد کو خطوط بھی لکھے جن میں سے اکثر شائع بھی ہوتے رہے جس کے لئے میں متعلقہ جرائد کے مدیران ادارہ تحریر کا تہ دل سے ممنون ہوں۔لیکن یہ سلسلہ ان مراسلتوں سے بھی نہ رکا تو میرے بعض مخلص کرم فرماؤں کی طرف سے یہ اصرار شروع ہوا کہ اب اصلاح و تصحیح کی صرف ایک ہی صورت باقی رہ گئی ہے۔کہ تاریخ آزادی کشمیر کے ابتدائی حالات کو ( جو میری آنکھوں نے دیکھے ہیں اور جن کے دستاویزی ثبوت بھی میرے پاس محفوظ ہیں ) یا داشتوں کے کشکول سے نکال کر کسی موقر جریدہ کے وقیع کالموں میں محفوظ کر دیا جائے۔تا کہ ان لوگوں کے آب زر سے لکھے جانے کے لائق کا رنامے بھی تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہو جائیں جنہیں کسی تعصب یا سیاسی اندیشیوں کے باعث مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے۔یقیناً ان سے ایک دیانتدار مورخ کو تحریک آزادی کشمیر کا حقیقی پس منظر و پیش نظر تر تیب دینے میں بہت مدد ملے گی! جب تک یہ باتیں اور واقعات گوشہ ہاء ذہن میں محفوظ تھے بہت مجمل بلکہ بہت مختصر محسوس ہوتے تھے لیکن جب انہیں ایک باقاعدہ مضمون کے سانچے میں ڈھالنے بیٹھا تو یہ سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا چلا گیا۔جنہیں برادرم مکرم ثاقب صاحب زیروی نے بڑی محبت 16