کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 115 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 115

زائد ہوگی ) آئے اور میر صاحب کے پاؤں کو پکڑ لیا اور کہنے لگے۔۔۔” میر صاحب میں آپ کا اور صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا شکر یہ کبھی ادا نہیں کر سکتا۔نہ اُن کے احسان کو بھول سکتا ہوں۔آپ نے مجھے جیل سے کھینچ کر باہر نکال لیا ہے۔“ میر صاحب نے بتایا کہ ان پر قتل۔آتش زنی۔بلوہ اور لوٹ مار کے مقدمات تھے۔اب میں نے ان کی ضمانت کروائی ہے۔دیگر وکلاء جموں میں جب کسی اہم معاملہ اور خاص قانونی نقطہ پر بحث کی ضرورت پیش آئی تو چودھری اسد اللہ خاں صاحب بیرسٹر بھی بلوائے جاتے تھے کہ انہوں نے بھی اپنے آپ کو صدر محترم کشمیر کمیٹی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے وقف کیا ہوا تھا۔اسی طرح شیخ محمد احمد ایڈووکیٹ کپورتھلہ ، قاضی عبدالحمید وکیل امرتسر، چودھری یوسف خاں وکیل گورداسپور بھی جن کا ذکر آگے آئے گا۔مولانا شمس مولانا جلال الدین شمس جن کے آباؤ اجداد کسی زمانہ میں کشمیر سے پنجاب آئے تھے کئی سال ہندوستان سے باہر بلاد عربیہ میں رہنے کے بعد دسمبر ۳۱ء میں واپس آئے۔تو صدرِ محترم کشمیر کمیٹی نے اُن کی واپسی کے دوسرے دن ہی اُن کو آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا نائب سیکرٹری مقرر کر کے ان کے سپر د خصوصی پراپیگنڈہ کا کام کر دیا۔جب کوئی شخص سالہال کے بعد اپنے عزیز واقارب کے پاس آتا ہے تو لازماً اس کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اُن سے ملاقاتیں کرے۔کچھ دن آرام کرے اپنے اہل وعیال کے پاس زیادہ سے زیادہ وقت بیٹھے۔اپنے دوستوں سے ملے لیکن جناب صدر کو اللہ تعالیٰ ایسے کارکن دیتا رہا جو قومی کاموں کو ذاتی مفاد پر 119