کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 88 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 88

صاحب نے ادا کیا۔جب اس مسودہ پر سب نمائندگان کو شرح صدر ہو گیا۔تو راقم الحروف نے و ہیں اسے ٹائپ کیا۔اور رات گئے یہ کام ختم ہوا۔دوسرے دن پھر شال صاحب کے اسی قلعہ نما مکان میں میٹنگ ہوئی۔مولانا یعقوب خان بھی موجود تھے۔درد صاحب مرحوم نے فرمایا کہ آج آپ نے یہ مطالبات مہاراجہ کو بھجوانے ہیں۔اور کل جا کر اس کے سامنے خود پیش کرنے ہیں۔اس لیے اس پر پھر غور کر لیں۔تا کہ اگر اب بھی کسی کمی بیشی کی ضرورت ہو تو کی جاسکے۔پھر غور ہوتا رہا۔چند الفاظ کی کمی بیشی ہوئی اور اس کے بعد میں نے اس مسودہ کو آخری شکل میں ٹائپ کر دیا اور اس ٹائپ شدہ میموریل کی ایک (ایڈوانس ) کا پی اُسی روز اور دوسری کاپی 19-اکتوبر 1931ء کو حسب پروگرام نمائندگان نے خود مہاراجہ کے سامنے جا کر پیش کی۔اس کے ساتھ ہی کشمیری پنڈ توں ہندوؤں سکھوں اور ہندو راجپوتوں نے بھی اپنے اپنے میموریل پیش کئے۔جمہور مسلمانانِ کشمیر کا رویہ انہی دنوں کی چند باتیں قابل ذکر ہیں۔جن سے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے معاندین کے متعلق جمہور مسلمانانِ کشمیر کے رویہ کا پتہ چلتا ہے۔ا راکتو بر کو خانقاہ معلی میں انجمن اسلامیہ کا جلسہ تھا۔ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع تھے۔پنجاب کے روزنامہ زمیندار کے مالک مولوی ظفر علی سرکاری موٹر کار پر اس جلسہ میں پہنچے اور تقریر کرنے کی کوشش کی۔انجمن اسلامیہ کے سیکرٹری نے ان کو تحریر یہ تاکید کر دی کہ وہ تقریر میں کوئی قابل اعتراض بات نہ کہیں جب انہوں نے تقریر شروع کی۔ہر طرف سے شیم شیم اور لعنت کی آواز میں آنے لگیں۔اور خواجہ احمد اللہ بٹمالو نے جو خواجہ غلام محمد صادق کے خسر اور خواجہ غلام محی الدین کرہ کے والد تھے۔اپنے کپڑے پھاڑ دیئے اور کہا کہ اسے یہاں سے فوراً نکال دو۔ورنہ میں اپنی جوتی سے اس کو 92 92