کشمیر کی کہانی — Page 64
نے جوش کا مظاہرہ کیا۔دیو بند میں مہتمم صاحب دارالعلوم کی صدارت میں جلسہ ہوا۔رنگون میں بھی جلسے ہوئے۔مالا بار میں بھی جلسے ہوئے۔پشاور اور صوبہ سرحد میں بھی جلسے ہوئے۔اس طرح دہلی میں بھی شاندار احتجاجی جلسے منعقد ہوئے۔ایک سرے سے دوسرے سرے تک ، خلاصہ یہ کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی تحریک پر ہندوستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ) ہر طبقہ، ہر فرقہ اور ہر خیال کے مسلمانوں نے کشمیر ڈے نہایت شاندار اور پُر جوش طریق سے منایا مسلمانوں کے خلاف حکومت کشمیر کی نا انصافیوں اور ستم رانیوں کے متعلق جس زور سے مظاہرے کئے گئے۔اور مسلمانانِ کشمیر کو مصائب و آلام کے ہجوم میں جس مخلصانہ رنگ میں ہر طرح امداد کا یقین دلایا گیا۔وہ حکومت کشمیر کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی تھا صدر محترم ( آل انڈیا کشمیر کمیٹی ) نے باشندگانِ کشمیر کو بھی یہ ہدایت دے رکھی تھی کہ وہ بھی اس دن کشمیر ڈے منائیں۔ہر شخص اپنے باز و پر ماتمی سیاہ بیج باند ھے۔ریاستی حکومت نے ہر قسم کی رکاوٹیں پیدا کیں اور کئی غلط افواہیں پھیلائیں اس کے باوجود کشمیر کے مسلمانوں نے ہر جگہ اس ہدایت کی تعمیل کی۔سری نگر میں مکمل ہڑتال ہوئی۔جامعہ مسجد میں عظیم الشان جلسہ ہوا۔ریزولیوشن پاس ہوئے۔ایک ریزولیوشن میں متعصب وزیر اعظم ہرکشن کول کی علیحدگی کا بھی مطالبہ کیا گیا 68 80