کشمیر کی کہانی — Page 52
بخشوا تے روزے گلے پڑ جائیں۔چنانچہ ریاست نے یہ ارادہ ترک کر دیا۔۳ را گست ۱۳۱ء کو سیکرٹری آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے مہاراجہ کویہ تار دیا کہ:۔براہ مہربانی نواب سر ذوالفقار علی خاں۔نواب محمد ابراہیم خاں آف کنجچورہ۔خواجہ حسن نظامی۔خاں بہادر شیخ رحیم بخش اور مولانا اسماعیل غزنوی پر مشتمل ایک وفد کو اجازت دیں کہ وہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کے سلسلہ میں اگلے مہینہ کی کسی تاریخ کو آپ کی خدمت میں حاضر ہو۔اس تار کا جواب وزیر اعظم کشمیر کی طرف سے تار کے ذریعہ ۱۵ اگست کو یہ آیا کہ:۔صورتحال پر پوری طرح قابو پالیا گیا ہے اور حالات اب اصل حالت میں ہیں۔غیر جانب دارانہ تحقیق ہو رہی ہے۔ایسے موقع پر کسی وفد کے آنے سے لازماً از سرِ نو جوش پیدا ہو جائے گا۔اس لیے افسوس ہے کہ ہز ہائی نس آپ کی درخواست منظور نہیں کر سکتے۔" وزیر اعظم کی طرف سے یہ تار موصول ہوا تو اسی وقت صدر محترم آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے ( جو ابھی تک شملہ میں مقیم تھے )۔مہاراجہ کے نام تار دیا اور پہلے تاروں کا حوالہ دے کر لکھا کہ:۔میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کریں اگر چہ کشمیر کے حالات بظاہر اصلاح پذیر نظر آتے ہیں۔مگر ہماری معلومات کے لحاظ سے ایجی ٹیشن شدید ہے۔اور اس کی جڑیں بہت گہری ہیں۔علاوہ ازیں ہندوستان کے مسلمانوں میں کشمیر کے معاملات سے متعلق تشویش اور غم و غصہ ہے۔ان حالات میں آپ کی طرف سے اس 56