کشمیر کی کہانی — Page 339
انہوں نے اپنی اعلیٰ قابلیت اور عمدہ وکالت - Brilliant) (Advocary کے بل بوتے پر ان غلط بیانیوں اور مزعومہ کارروائیوں کے بیان کرنے کی وجہ سے جو ہندوستان کی طرف منسوب کی گئیں۔ہندوستانی وفد پر فوقیت حاصل کی اور ہندوستانی وفد کم و بیش مایوس ہی لوٹا۔کیونکہ نہ تو مجلس امن کی طرف سے اُسے (پاکستان کو ) جارح قرار دیا گیا اور نہ ہی اسے کشمیر خالی کرنے کے لئے کہا گیا۔وفد کی ہندوستانی واپسی کے بعد جب میری مسٹر نہرو سے ملاقات ہوئی تو وہ اُس پر جو کچھ ہوا۔مایوس ہی نظر آئے۔“ ہندوستانی پریس (Looking Back by Mahajan PP172) اور مسٹر مہاجن پر ہی کیا موقوف ہے۔ہندوستانی پریس نے بھی اپنے وفد کی نا کامی پر بڑا واویلا کیا اور اپنی حکومت کو غلط انداز سے لگانے پر موردالزام ٹھہرایا۔ملاحظہ فرمائیں۔روز نامہ پرتاپ (23 راگست 1950 ء) نے لکھا: یو این او سے پاکستان کے خلاف فریاد کرنا ہمالیہ جیسی بڑی غلطی تھی۔ہم وہاں گئے تھے مستغیث بن کر اور لوٹے وہاں سے ملزم بن کر “ اُس کا ( حکومت ہند کا یہ عمل بھی غلط تھا کہ وہ یو این او کے پاس مستغیث بن کر گئی۔“ آج تک ہم یو این او میں جانے کی سزا بھگت رہے ہیں۔“ ایک ہندوستانی رسالہ ”سنت سپاہی نے اپنی ستمبر 1951ء کی اشاعت میں لکھا: کشمیر کے معاملہ میں ان (حکومت ہند کی سیاست تباہی والی ہے اور انہوں نے یہ دو 343