کشمیر کی کہانی — Page 335
رہا ہے۔پاکستان کے فوجی اور افسر بھی قبائلیوں کے ساتھ ہیں۔پاکستانیوں کا یہ طرز عمل بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے۔پاکستان کو اس سے روکنا از بس ضروری ہے کہ پاکستان قبائلیوں کی مدد کرنا بند کر دے۔اور انہیں واپس جانے پر آمادہ کرے۔“ مسٹر آئنگر نے مزید کہا کہ الحاق کے متعلق ہندوستان کا موقف یہ ہے کہ جہاں فرمانروائے ریاست ایک مذہب کا ہو اور رعایا کی کثرت دوسرے مذہب کی وہاں فرمانروا کا فرض ہے کہ وہ الحاق کا فیصلہ رعایا کی کثرت رائے کے مطابق کرے۔چنانچہ جب ریاست میں امن ہو جائے گا۔تو پھر کشمیر کی رعایا کے منشاء کے مطابق الحاق کے معاملہ میں آخری فیصلہ کریں گے۔“ مسکت و مدلل جواب ہندوستانی مندوب کی تقریر کے بعد اجلاس جب دو دن کے التواء کے بعد شروع ہوا تو پاکستان کے وزیر خارجہ نے ہندوستانی مندوب کی تقریر کی ہر شق کا مسکت و مدلل جواب دیا۔آپ کا یہ جواب پانچ گھنٹوں پر پھیلے ہوئے تین اجلاسوں میں مکمل ہوا۔آپ نے ابتداء میں کونسل کو یہ بتایا کہ ہندوستانی نمائندہ نے عمداً اس قضیئے کے پس پردہ باتیں بیان نہیں کیں اور سارا زور پاکستان ہی کے خلاف الزامات پر صرف کیا ہے۔لہذا ہمارے لئے ضروری ہو گیا ہے کہ اس پیچیدہ اور اہم ترین قضیئے کے پس پردہ تمام حالات کو تفصیل سے بیان کر کے ہندوستان کو مجرم کی حیثیت میں دکھا ئیں۔اُن تمام امور کی وضاحت اصل قضیئے کو سمجھنے کے لئے از بس ضروری ہے۔ہندوستان کے نمائندہ نے جنہیں اس لئے نظر انداز کر دیا ہے کہ وہ ان کے خلاف جاتے 339