کشمیر کی کہانی — Page 331
کارروائی کی رپورٹ پیش کرنے کے لئے حاضر ہوئے اور آخر میں بھوپال کو واپسی کی اجازت چاہی تو قائد اعظم نے اپنی اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ وہ بھوپال جا کر وہاں سے جلد پاکستان آ جائیں۔نواب آف بھوپال کے دل میں مسلمانوں کی فلاح و بہبود کا بڑا جذ بہ اور درد تھا وہ قائد اعظم کو بھی بڑے احترام کی نظروں سے دیکھتے تھے انہیں چوہدری صاحب کی زبانی جب قائد اعظم کی خواہش کا علم ہوا تو فرمایا: آپ کو علم ہے کہ اس وقت ہم والیان ریاست پر بڑی ہی کڑی آزمائش کا وقت ہے۔آپ کے یہاں ہونے سے مجھے ایک گونہ قلبی اطمینان حاصل تھا۔لیکن پاکستان کی ضرورت اس نوزائیدہ اسلامی مملکت کی بہبود کو میں اپنی ضرورت پر ترجیح دیتا ہوں۔میری طرف سے آپ کو اجازت ہے۔" اس کے ساتھ ہی چوہدری صاحب کی بحفاظت واپسی کے تمام انتظامات کی خود نگرانی فرمائی۔حتی کہ اپنا بیچ کرافٹ طیارہ بھی چوہدری صاحب کے حوالے کر دیا۔جس کے ذریعہ آپ 25 دسمبر 1947ء کو کراچی پہنچے۔پہلے وزیر خارجہ 25 / دسمبر کو جو قائداعظم کے یوم ولادت کی تاریخ ہے۔کراچی میں آپ کے اعزاز میں ایک استقبالیہ دیا جا رہا تھا۔جس میں چوہدری محمد ظفر اللہ خان بھی مدعو تھے۔جو نہی قائداعظم تقریب میں تشریف لائے آپ نے شرکاء استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اب چوہدری محمد ظفر اللہ خان وزیر خارجہ پاکستان کے منصب کا حلف اٹھائیں گے۔“ جس پر چوہدری صاحب نے پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ کے عہدہ کا حلف لیا اور کا بینہ 335