کشمیر کی کہانی — Page 303
گئی اور چند دنوں کے اندر ملک کے کونے کونے سے احمدی جوان خدمت مادر وطن کے جذبہ سے سرشار بھرتی کے لئے پہنچنے شروع ہو گئے۔(واضح رہے فاتح الدین اس کمیٹی کے صدر کا عسکری نام تھا) جون 1948ء میں ایک پوری بٹالین معرض وجود میں آگئی جسے فرقان بٹالین“ کا نام دیا گیا اور معراجکے کی پلاٹون کو اس میں ضم کر دیا گیا۔فرقان بٹالین سرائے عالمگیر ( متصل جہلم) میں برلب جوئے آب ابتدائی تربیت کے لئے فرقان کیمپ قائم ہوا۔اس تربیت میں ہر قسم کے ہتھیاروں کے استعمال فیلڈ کرافٹ، پٹرولنگ المقصد ہر قسم کی جنگی تربیت شامل تھی۔ابتدائی تربیت کے بعد یہ فرقان بٹالین جو 1948 ء سے جون 1950ء تک اگلے مورچوں میں دشمن سے نبرد آزمارہی لیفٹینٹ ، جرنل اے ایم شیخ ( جواس وقت بریگیڈیئر تھے ) اور ایڈ جو ئنٹ جرنل محمد ایوب خان بھی اس بٹالین کے معائنہ کے لئے آئے ہر دفعہ ہر لحاظ سے مطمئن اور جوانوں کے جذبہ جہاد کو دیکھ کر مسرور و تنتظر لوٹے۔فرقان بٹالین کی قیادت کے فرائض شروع میں (کرنل) سردار محمد حیات صاحب قیصرانی نے بعد ازاں (کرنل) صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب نے انجام دیئے۔صاحبزادہ صاحب کا فرقان کی فوجی اصطلاح میں ” کلیڈ“ کے نام سے یاد کئے جاتے تھے۔فرقان کیمپ کا نام ز بیر اور محاذ جنگ کے امیر کا نام ”عالم کباب تجویز ہوا بٹالین کی نفری کو پورا رکھنے کی ذمہ داری ایک کمیٹی کے سپرد تھی جس کے صدر فاتح الدین (عسکری نام) صاحبزادہ حضرت مرزا ناصر احمد (جماعت کے تیسرے امام ) چونکہ عملاً بٹالین کی ساری ذمہ داری انہی پر تھی اس لئے ہر وقت محاذ 307