کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 287 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 287

تقسیم ہند کے اس اعلان کے بعد اب باؤنڈری کمیشن کا تقرر عمل میں لایا جانا ضروری تھا۔چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے اس سلسلہ میں قائد اعظم کی خدمت میں مشورہ عرض کیا کہ ” برطانوی لارڈز آف اپیل اپنی روایات کے لحاظ سے اپنے فرائض کی انجام دہی میں نہایت دیانتدار اور غیر جانبدار ہوتے ہیں۔آپ زور دیں کہ اُن میں سے کسی کو ایمپائر مقرر کیا جائے۔(تحدیث نعمت ایڈیشن اوّل صفحہ 498) قائد اعظم نے اس بات کا خیال رکھنے کا وعدہ فرمایا اور پھر جب پنجاب باؤنڈری کمیشن کے ارکان کی نامزدگی ہو گئی۔تو آپ نے چوہدری صاحب موصوف سے اپنی اس دلی خواہش کا اظہار فرمایا ” پنجاب باؤنڈری کمیشن کے روبرو مسلم لیگ کا کیس بھی وہی پیش کریں جسے انہوں نے بخندہ پیشانی قبول کیا۔واضح رہے میں تقسیم برصغیر سے متعلق واقعات و سانحات کی تفاصیل میں اس لئے نہیں جارہا کہ اُن میں سے بیشتر بڑی شرح وبسط کے ساتھ منظر عام پر آچکے ہیں۔پہلے یہ تجویز تھی کہ حد بندی کا سارا کام اقوام متحدہ کے ذریعہ عمل میں آئے گا۔قائد اعظم کو یہ تجویز پسند تھی لیکن پنڈت نہرو اس پر متفق نہ ہوئے چنانچہ قائد اعظم نے چوہدری محمد ظفر اللہ خان کی تجویز اور مشورہ کے مطابق پریوی کونسل کے تین جوں کو مقرر کرنے کی تجویز پیش کی اس تجویز کو ماؤنٹ بیٹن نے رد کر دیا۔کیونکہ وہ تو ایک ایسا کٹھ پتلی ایمپائر چاہتے تھے۔جوان کے اشاروں پر ناچ سکے چنانچہ ان کی تجویز سے۔ایک برطانوی بیرسٹر سر سیرل ریڈ کلف“ کو (جو ابھی پریکٹس کر رہے تھے ) باؤنڈری 291