کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 243 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 243

باشندگان کی جو تنظیم کی تھی وہ کامیابی کے ساتھ ترقی کر رہی تھی۔اس اجلاس میں نہایت اہم امور کے متعلق فیصلے ہوئے۔آل انڈیا کشمیر ایسوسی ایشن سرمحمد اقبال صاحب نے کمیٹی کی صدارت قبول نہ کی اس لیے اصل آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے نہ آل نے جواب بھی فعال جماعت تھی اپنے اجلاس ۲۵ / مارچ ۳۴ء میں یہ فیصلہ کیا کہ غلط نہی سے بچنے کے لیے کمیٹی کا نام آئندہ آل انڈیا کشمیر ایسوسی ایشن“ رکھا جائے چنانچہ اسی نام سے یہ ایسوسی ایشن ۳۷ ء کے آخر تک کام کرتی رہی۔دوسری طرف سر محمد اقبال والی کمیٹی بہت مختصر مدت کے بعد ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔کشمیر ایسوسی ایشن کے صدر سید حبیب (مدیر و مالک روز نامہ سیاست ) اور سیکرٹری مشہور کشمیری مورخ منشی محمد الدین فوق مقر ر ہوئے پھر ایک عرصہ تک چودھری عبدالرشید تبسم۔ایم۔اے نے بھی سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیئے۔ایسوی ایشن کی درخواست پر تمام مالی بوجھ وکلاء اور کارکنان کا مہیا کرنا حضرت امام جماعت احمدیہ نے اپنے ذمہ لینا منظور کر لیا۔آل انڈیا کشمیر ایسوسی ایشن کی نمائندہ حیثیت کا پتہ اس کے اراکین کی فہرست سے نجوبی چل جاتا ہے۔جس میں علاوہ دیگر اکابرین کے مرکزی اسمبلی کے قریباً سب منتخب مسلم نمائندے اور مؤقر مسلم جرائد کے ایڈیٹر مالک شامل تھے۔کشمیر ایسوسی ایشن کی چند مساعی کشمیر ایسوسی ایشن کے ماتحت کام پہلے کی طرح جاری رہا۔جو لیڈر گرفتار کر لیے گئے تھے۔ان کی رہائی کے لیے ہر طریق سے کوشش کی گئی۔پارلیمنٹ میں سوال کروائے گئے۔247