کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 99 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 99

کشمیر کے معاملہ میں شروع ہی سے ایک بزرگ صدر محترم کے ہمیشہ دست راست بنے رہے اور انہوں نے مظلوم کشمیریوں کی امداد کے لیے رات دن کام کیا لیکن کبھی پبلک میں سامنے نہیں آئے۔یہ بزرگ صدر محترم کے دوسرے بھائی صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب (ایم۔اے) تھے۔صدر محترم انہیں عموماً اپنے ساتھ رکھتے یا جب کبھی وہ سفر میں ساتھ نہ جاتے تو مرکز میں انہیں امور کشمیر کا نگران اعلیٰ مقرر فرما کر جاتے۔مولانا در دتو سری نگر میں تھے اس لیے قائمقام سیکرٹری کی خدمت مولا نا عبدالمغنی خاں صاحب کے سپر د تھی۔مہاراجہ کی طرف سے حسب وعدہ تفصیلی اعلان میں تاخیر ہورہی تھی۔صدر محترم نے مہاراجہ کو تار کے ذریعہ توجہ دلائی۔کہ ریاست میں قیام امن کے لیے ضروری ہے کہ بہت جلد مسلمانوں کی شکایات کا ازالہ اور ابتدائی حقوق کے متعلق اعلان کیا جائے اس تار کی تائید میں سری نگر خانقاہ معلی میں ایک عظیم الشان جلسہ ہوا جس میں ہزار ہا مسلمان شریک ہوئے۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے ایک رکن جلسہ کے صدر تھے۔شیخ محمد عبد اللہ نے اس جلسہ میں پُر جوش تقریر کی اور اس مطالبہ کی تائید کی۔بخشی غلام محمد بھی ان دنوں سرگرم کارکن تھے۔گوا بھی لیڈروں میں شمار نہ ہوتے تھے۔انہوں نے بصد اصرار جلسہ کی روئدا دوالے تار پر دستخط کئے۔پتھر مسجد واگزار ہے۔اسی دوران میں ریاست کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا کہ پتھر مسجد واگزار کی جاتی ریاست آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے 'ہاؤس بوٹ“ ہی کو نمائندگان اور مسلمانانِ کشمیر کا مرکز خیال کرتی تھی۔ہم سب کی چوبیس گھنٹے نگرانی ہوتی تھی۔میں صبح کی نماز کے بعد اپنے 103