کشمیر کی کہانی — Page 98
اس وقت جب اہالیانِ کشمیر اپنے مطالبات پیش کر کے انکی منظوری کے منتظر تھے۔ان لوگوں نے جو کانگرس سے ( وقتی طور پر ) روٹھ کر علیحدہ ہو گئے تھے۔مسلمانان کشمیر کی مؤثر تحریک کو عین وقت پر سبو تا ثر کرنے کے لیے جمہور مسلمانوں اور کشمیری نمائندوں کی رائے کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک چلانے اور ریاست میں جھتے بھجوانے کا اعلان کر دیا۔سبوتاژ مسلمانانِ کشمیر کی طرف سے مطالبات کا جو میموریل مہاراجہ کے سامنے ۱۹ اکتوبر کو پیش ہوا۔مہاراجہ نے اسکا مختصر الفاظ میں جواب دیا اور مفصل احکام بعد میں جاری کرنے کا وعدہ کیا۔اپنے جواب میں یہ بھی ذکر کیا۔کہ تازہ فسادات کی تحقیق کے لیے مسٹر جسٹس دلال کی سرکردگی میں کمیشن مقرر کر دیا گیا ہے۔صدر محترم ( آل انڈیا کشمیر کمیٹی ) نے اس کی اطلاع ملتے ہی اس جواب پر تبصرہ لکھا اور اس دلال کمیشن کو ناقابل قبول قرار دیا۔پھر ۲۴ اکتوبر کو لاہور میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بلا کر اس معاملہ کو کمیٹی میں پیش کیا۔جس نے با قاعدہ قرار دادوں کے ذریعہ آپ کے تبصرہ کی تائید و تصدیق کی اور آپ کے نقطہ نگاہ کے ساتھ کلی اتفاق کیا۔ہم لوگ ان دنوں سری نگر میں تھے مسلم نمائندگان نے بھی کمیشن پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔اور تمام اخبارات کو اس مضمون کے تار بھجوائے۔اس کوشش کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعد میں اس کی جگہ مڈلٹن کمیشن مقرر کرنا پڑا 102