کشمیر کی کہانی — Page 92
طرف سے کئے جاتے تھے مثلاً یہ کہ: وو۔۔جب کشمیر کمیٹی کے خلاف یہ اعتراض ہوا کہ اُس کے صدر ( میرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب) نے تحریک کشمیر کے سلسلے میں احمدیت کی تبلیغ کا حکم اپنے مریدوں کو دے رکھا ہے۔تو صاحب موصوف نے اعلان کر دیا کہ یہ غلط ہے۔اور جو احمدی اس تحریک کو اپنے عقائد کی تبلیغ کے لیے استعمال کرے گا وہ بدنیتی کا مرتکب سمجھا جائے گا۔اور میں اُس پر ناراض ہوں گا۔۔۔66 تمام اعتراضات کا جواب دینے کے بعد یہ تحریر کیا کہ کشمیر کمیٹی نے اتحاد بین المسلمین کے لیے اپنی طرف سے کوئی دقیقہ اُٹھا نہیں رکھا۔1 (1) راقم الحروف کو خود ابتدائے تحریک سے ہی کشمیر کمیٹی میں کام کرنے کی سعادت حاصل ہے اور میں حق الیقین کی بنا پر یہ کہتا ہوں کہ یہ الزام سراسر غلط اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے اور کشمیر کمیٹی سے متنفر کرنے کے لئے کیا گیا تھا اگر اس میں رتی کے برابر بھی صداقت ہوتی تو اس کا اظہار کوئی نہ کوئی کشمیری لیڈر بھی ضرور کرتا۔لیکن وہ تو صدر محترم کو رات دن شکریہ کے خطوط لکھتے رہتے تھے تاریخ کا ایک بہت اہم حصہ ہیں اور اپنے وقت پر انشاء اللہ العزیز ضرور شائع ہوں گے۔(ظ)) شاندار خدمات کا اعتراف آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی شاندار اور بے لوث خدمت کو ہر طبقہ کے لوگوں اور اخبارات نے سراہا اور اگر ان سب کو جمع کیا جائے تو ان آرا ء ہی کے لیے ایک علیحدہ کتاب کی ضرورت 96 96