کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 84 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 84

ڈکٹیٹر دوم ، غلام قادر ڈکٹیٹر سوم کی گرفتاری پر اس انجمن نے بھی ایک عظیم الشان احتجاجی جلسہ کیا غازی محمد اسمعیل شہید صدر مجلس اطفال اسلام نے ڈیڑھ ہزار بچوں کے سامنے تقریر کی۔یہ جلسہ ایک مسجد میں کیا گیا تھا۔جس میں کس بالغ شخص کو آنے کی اجازت نہ تھی۔ریزولیوشن پاس کر کے حکومت اور پریس کو بھجوائے۔الغرض ہر موقع پر یہ انجمن جلوس نکالتی اور جلسے کرتی رہی۔با قاعدہ مطالبات کا وقت شیخ محمد عبداللہ کی رہائی اکتوبر ۳۱ ء کے شروع میں عمل میں آئی۔اب مسلمانوں کی طرف سے مہاراجہ کی خدمت میں باقاعدہ مطالبات پیش کرنے کا وقت آگیا تھا۔جموں اور کشمیر کے نمائندگان صدر محترم آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی خدمت میں حاضر ہوکر مشورہ کے بعد مطالبات کا ایک مسودہ تیار کر چکے تھے۔اور جیسا کہ شیخ محمد عبد اللہ کے اس پیغام سے ظاہر ہے جو انہوں نے اپنی گرفتاری کے وقت قوم کے نام دیا تھا۔مسلمانانِ کشمیر اپنے دوستوں اور دشمنوں کو بھی پہچان چکے تھے۔انہوں نے صدر محترم کی خدمت میں درخواست کی۔۔۔۔کہ۔آپ اپنے ذمہ دار نمائندگان کو کشمیر میں بھجوائیں۔تا کہ وہ مطالبات کو آخری شکل دے کر مہاراجہ کے سامنے پیش کرسکیں۔۔66 صدر محترم نے اُن کی اس درخواست کو منظور فرماتے ہوئے فیصلہ فرمایا کہ مولانا عبد الرحیم در دایم۔اے۔سیکرٹری آل انڈیا کشمیر کمیٹی اور مولانا یعقوب خاں ایڈیٹر لائٹ“ دو نائبین کو لے کر وہاں پہنچ جائیں۔1 (1) راقم الحروف ان دو نائبین میں سے ایک تھا اور دوسرے نائب مولوی عصمت اللہ صاحب بہلول پوری ( ڈویژنل کونسلر سر گودھا ڈویژن ) تھے ) 88