کشمیر کی کہانی — Page 48
ہندوستان کے مسلمانوں کو مسلمانانِ کشمیر کی حالت زار سے آگاہ کرنے کے لئے ۱۴ اگست کو سارے ہندوستان میں ” یوم کشمیر 1 ( یہ کس قدر حسین تاریخی توارد ہے کہ ٹھیک اسی تاریخ کو اللہ تعالیٰ نے قیام پاکستان کے لئے منتخب کیا یعنی ۱۴ اگست کو پاکستان کی عظیم اسلامی مملکت کے خطوط عالمی سطح پر اُبھرے۔ظا) منانے کا بھی تھا جن میں حکومت ہند کو ان مظلوموں کی مظلومیت سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ مصیبت زدگان کے لئے فراہمی چندہ کی اپیل کرنا بھی طے پایا تھا۔یہ بھی فیصلہ ہوا کہ وائسرائے ہند اور پولیٹکل ڈیپارنمنٹ کو اصل حالات سے آگاہ کر کے آزادانہ تحقیقات کی ضرورت کی طرف توجہ دلائی جائے گی۔خود مہاراجہ سے مل کر بھی اُن کو صورت حالات سے آگاہ کرنے کی کوشش کی جائے۔بسا ممکن ہے۔وزراء ہی اُن تک غلط واقعات پہنچا رہے ہوں۔۔پارلیمنٹ میں کشمیر کا سوال اٹھانے کے متعلق بھی فیصلہ کیا گیا دوسرا پروگرام جو آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے لئے تجویز ہوا۔اس کا خلاصہ یہ تھا کہ گورنمنٹ برطانیہ پر زور دیا جائے کہ وہ کشمیر کے باشندوں کو وہ بنیادی انسانی حقوق دلائے جن سے وہ اس وقت تک محروم ہیں۔ریاست بھر میں اس وقت تک مسلمانوں کا کوئی پریس نہیں۔نہ اس کی اجازت ہے۔اور کوئی ایسی صورت نہیں کہ جس سے آئینی لائنوں پر رعایا حکومت تک اپنے خیالات پہنچا سکے۔اسی طرح مذہبی آزادی ( جو کہ تہذیب کا پہلا رکن ہے ) سے بھی اہل کشمیر محروم ہیں۔اگر کوئی شخص مسلمان ہو جائے تو اس کی جائداد ضبط کر لی جاتی ہے۔اور اسے بیوی بچوں سے علیحدہ کر لیا جاتا ہے۔اُسے زمین کے مالکانہ حقوق سے بھی محروم ہونا پڑتا ہے۔کیونکہ زمین داروں کو خود اپنی زمین پر مالکانہ حقوق نہیں دیے جاتے اور ریاست اپنے آپ کو سارے کشمیر کی زمین کا مالک سمجھتی ہے۔اسی طرح با وجود تعلیم یافتہ ہونے کے مسلمانوں کو ملازمت 52