کشمیر کی کہانی — Page 348
کمشن کے اراکین کی تعداد تین سے بڑھا کر پانچ کر دی گئی۔“ کشمیر کا فیصلہ کشمیر میں ( تحدیث نعمت صفحه 540) ہندوستان کی تو سرشت میں دجل ہے۔جب اس کی حکومت کو یقین ہو گیا کہ مجلس امن اس نزاع کا فیصلہ اپنی نگرانی میں کرانے پر مضبوطی سے قائم ہے تو اس نے کشمیر میں اپنی فوجی سرگرمیاں تیز تر کر دیں۔چوہدری صاحب موصوف نے بھی اس نئی سازش کی بھنک پاکروز یر اعظم پاکستان کے نام اس مفہوم کا بر قید ارسال کر دیا کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیر میں ہوگا نیو یارک میں نہیں ہو گا۔“ چنانچہ باہم مشورہ کے بعد چوہدری صاحب کی اس تجویز کے مطابق اپریل کے آخری ہفتہ اور مئی کے شروع میں ہماری فوجوں نے بھی وہاں پہنچ کر اپنا کام شروع کر دیا۔وزیر اعظم پاکستان اپنی خدادا فراست سے چوہدری صاحب کا مفہوم پا گئے اور انہوں نے پاکستانی فوجوں کو کشمیر میں دفاع کے لئے بھجوادیا۔کمشن کے ارکان جولائی 1948ء کے پہلے ہفتہ میں برصغیر میں پہنچے۔دونوں ملکوں نے اپنا اپنا کیس سمجھایا۔13 اگست 1948ء کو کمشن نے ایک قرارداد تیار کی جسے حکومت ہند نے تو قبول کر لیا لیکن پاکستان نے اس لئے منظور نہ کیا کہ اس میں پاکستان کے مفاد کا پوری طرح خیال نہیں رکھا گیا تھا۔جس پر کمشن قرارداد کا نتمہ تیار کرنے پر مجبور ہو گیا۔جسے دونوں ملکوں نے منظور کر لیا۔اس طرح 13 اگست کی قرار داد تتمہ کے ساتھ 5 جنوری 1949ء کو منظور ہوکر مکمل ہوئی۔القصہ یہ ہیں وہ قراردادیں جن کی بنیاد پر یہ مسئلہ حل ہونا قرار پایا تھا۔لیکن ہندوستان کی ہٹ دھرمی کہ ابھی تک یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ سکی۔حالانکہ دونوں ملکوں کے درمیان دو خونریز جنگیں بھی لڑی جا چکی ہیں۔352