کشمیر کی کہانی — Page 345
ہندوستان نے سرسٹیورڈ کرپس کے ذریعہ وزیر اعظم برطانیہ پر بہت دباؤ ڈالا ہے۔جس کے بعد صورت حال کافی تبدیلی ہو چکی ہے۔“ اُن کے اس تاثر کی توثیق وزیراعظم برطانیہ سے ملاقات کے دوران ہوگئی اور انہیں اس بارہ میں حق الیقین ہو گیا کہ اندر ہی اندر خطر ناک چال چلی جا رہی ہے۔اور ماؤنٹ بیٹن اور سرکر پس ہندوستان کی بہت تائید کر رہے ہیں۔جبکہ پاکستان کے حق میں کلمہ خیر کہنے کی کسی کو جرات نہیں۔ہوا کا بدلہ ہوا رخ اس سازش کی تکمیل کے بعد جب امن کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو ہوا کا رخ کاملاً بدل چکا تھا۔برطانیہ کو دیکھ کر امریکہ نے بھی اپنا رویہ بدل لیا تھا۔اور وہ اسے دولت مشترکہ کا مسئلہ قرار دے کر برطانیہ ہی کی رائے کی تائید کر رہا تھا۔اور اقوام متحدہ میں کسی بھی ملک کا نمائندہ اپنی حکومت کی ہدایت کے مطابق رائے دینے پر مجبور ہوتا ہے۔وزیر اعظم برطانیہ نے اپنے نمائندہ کو یہ ہدایت کی کہ وہ اصل اور قطعی قسم کی قرارداد کی بجائے اس متبادل اور کمزور قرارداد کی حمایت کرے۔جس کا مسودہ چینی صدر ملس ڈاکٹر سیا نگ چونے مجلس میں پیش کیا۔جس میں نہ پہلی قرار داد سا زور تھا نہ قطعیت تھی اور نہ اُس میں پاکستان کے موقف کو پورے طور پر مدنظر رکھا گیا تھا۔حیرت انگیز چوہدری محمد ظفر اللہ خان نے اس نئی قرار داد کو حیرت انگیز قرار دیتے ہوئے واضح الفاظ میں فرمایا کہ حکومت پاکستان تنازعہ کشمیر سے متعلق اس قرارداد کو منظور نہیں کر سکتی“ 349