کشمیر کی کہانی — Page 344
کہ کشمیر جل رہا ہے۔اور مجلس امن ستار بجارہی ہے۔کیا میں ہندوستان کے نمائندے سے دریافت کرنے کی جرات کر سکتا ہوں کہ اب کیا کشمیر کو جلانے والی آگ ٹھنڈی ہو گئی ہے اور اگر نہیں تو اب کون ستار بجا رہا ہے۔“ التوائے اجلاس کیوں؟ ( تحدیث نعمت صفحه 537) کولمبیا کے نمائندہ کا یہ اظہار خیال ہندوستانی وفد کے منہ پر ایک چپت کے مترادف تھی لیکن ” چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے“ کے اصول کے ماتوں کے ماتھے پر جوں تک نہ رینگی۔اُن کا یہ اقدام صاف بتارہا تھا کہ جو مطلب وہ دلائل و حقائق کی بناء پر حاصل نہیں کر سکے اب التواء اجلاس کے بعد سیاسی پر کاری کے ذریعہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔اب صورت حال مدعی ست گواہ چست کی سی پیدا ہو گئی تھی۔مجلس کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ اجلاس ملتوی کر دے۔لہذا اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔خدشه درست نکلا اور وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔اگر مقصود واقعی محض اپنی حکومت سے مزید ہدایت حاصل کرنا ہوتا تو وہ چند دنوں کی مہلت طلب کر سکے تھے۔لیکن چونکہ یہ مقصود نہ تھا اس لئے التوا کا یہ زمانہ طویل ہوتا چلا گیا۔جس سے چوہدری صاحب اور اُن کے رفقاء کار کے دل میں بجاطور پر شبہات پیدا ہوئے اور آپ چوہدری محمد علی صاحب کو ساتھ لے کر یہ معلوم کرنے کے لئے لنڈن پہنچے کہ اندرون خانہ کیا تار ہلائے جا رہے ہیں۔لنڈن میں چوہدری صاحب کی وزیر خارجہ برطانیہ سے ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ 348