کشمیر کی کہانی — Page 343
ہوں یا پاکستان کی طرف سے ہوں۔یا پھر قبائلیوں کی طرف سے اُن کی علت غائی کشمیر کے باشندوں کی اس بغاوت میں مضمر ہے جو انہوں نے اس مطلق العنان حاکم کے خلاف کی جو اُن پر اس طرح حکومت کرتا ہے۔گویا وہ ایک فارم چلا رہا ہے اور چالیس لاکھ باشندوں کو وہ اتنے عدد جانور سمجھ رہا ہے۔“ ہندوستانی وفد کی پسپائی (Qvoted by Saraf P 1057) بحث و تمحیص اور تبادلہ خیالات کا سلسلہ ختم ہوا تو اراکین مجلس امن نے اس قضیہ کے حل کے لئے ایک قرار داد تیار کی جس کے بارے میں سب کو یقین تھا کہ وہ متفقہ طور پر پاس ہو جائے گی۔شائد ایک ملک غیر جانبدار رہے۔لیکن جب اس قرار داد پر رائے شماری کا وقت آیا تو بھارت کے نمائندہ مسٹر آئنگر نے بولنے کی اجازت طلب کی اور پھر اجازت ملنے پر کہا: ہمیں اپنی حکومت کی طرف سے ہدایت موصول ہوئی ہے کہ ہم مزید ہدایت کے لئے دلی واپس جائیں۔اس لئے ہم رخصت کی اجازت چاہتے ہیں اور درخواست کرتے ہیں کہ ہماری واپسی تک اجلاس ملتوی رکھا جائے۔“ ( تحدیث نعمت صفحہ 537) یا تو وہ شورا شوری تھی یا یہ بے نمکی۔اور اپنے ہی پیش کردہ قضیے کا فیصلہ سننے سے گریز! تمام اراکین مسٹر آئنگر کی اس درخواست پر پتھر ہو کر رہ گئے۔یہاں تک کہ کولمبیا کے نمائندے نے صدر مجلس مجلس امن کو مخاطب ہوئے کہا:۔۔۔۔صاحب صدر! آپ کو اور اراکین مجلس کو یاد ہوگا کہ ابھی چند دن ہوئے۔ہندوستان کے فاضل نمائندے نے شکوہ کے طور پر کہا تھا 347