کشمیر کی کہانی — Page 342
تائید کرنے کی سزاء وزیر خارجہ پاکستان کے براہین قاطعہ سے متاثر ہو کر جن اراکین نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی اُن میں رائٹ آنریبل مسٹر فلپ نوئیل بیکر ( جنہیں بعد میں امن کا نوبل پرائز ملا ) مجلس امن میں برطانیہ کے اور سینیٹر وارن آسٹن ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے نمائندہ تھے۔ان دونوں نے پاکستان کے موقف کی برملا تائید کی تو ہندوستان نے ان دونوں کو بھی نہ بخشا۔چنانچہ مسٹر ایلین کیمل جانسن لکھتے ہیں: ترجمہ آسٹن اور نوئیل بیکر ہر دو صاحبان پر پاکستان کا حمایتی ہونے اور کھل کر پاکستان کا ساتھ دینے کا شرمناک اور وحشیانہ طریق پر متعدد وجوہات کی بناء پر الزام لگایا جاتا ہے۔جبکہ اُس کی ایک وجہ تو ہندوستانی وفد کی اپنے کیس کو ثابت کرنے میں مکمل ناکامی ہے۔اور اُس کے علاوہ پاکستانی وفد کے سربراہ اُن کے وزیر خارجہ مسٹر ظفر اللہ خان تھے۔جو تجربہ کار اور اقوام متحدہ میں مقبول شخصیت تھے۔مسٹر ظفر اللہ خان کا انداز اتنا ہی دھیما اور اعلیٰ تھا۔جتنا کہ ہندوستانی نمائندہ کا اندازہ بھدا اور بے جوڑ (Mission with Mountbettan PP 287) نمائندہ ارجن ٹائن کی رائے کہا: مجلس امن میں چوہدری محمد ظفر اللہ خان کی تقاریر سننے کے بعد ارجنٹائن کے نمائندہ نے ترجمہ مناسب ہے کہ اس لاطینی محاورہ کو یاد کر لیا جائے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ علت کو ختم کر دو معلول خود ہی ختم ہو جائے گا۔اس معاملہ میں فسادات چاہے ہندوستان کی طرف سے 346