کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 337 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 337

سیتلواڈ کازور خطابت دو تین دن کے وقفے سے چوہدری صاحب کی تقریر کا جواب مسٹر آئنگر کے بجائے مسٹر ستیلواڈ نے دیا۔جس میں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے چوہدری صاحب کے دلائل کو نا درست ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔وہ زور خطابت میں اتنے آگے نکل گئے کہ جھوٹ اور بیچ کی تمیز بھی نہ کی۔بلکہ پرانے اور تجربہ کار وکیل ہونے کے باوجود آداب مجلس کو نظر انداز کر کے درشت کلامی پر اتر آئے۔جس سے اراکین مجلس امن بھی کبیدہ خاطر ہوئے۔تیسرے اجلاس میں بعض ارکان مجلس کا خیال تھا کہ چوہدری صاحب مسٹر سیلواڈ کی درشت کلامی کے خلاف احتجاج کریں گے۔اور جوابا ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں۔کا تھوڑا بہت ثبوت مسٹر سیلواڈ کی خدمت میں ضرور پیش کریں گے۔لیکن وہ اس درشت کلامی پر قطعا برافروختہ نہ ہوئے۔کیونکہ انہیں یقین تھا کہ اراکین مجلس نے ضرور اندازہ کر لیا ہو گا کہ مسٹر سیلواڈ کا درشت کلامی پر اتر نا اُن کے موقف کی کمزوری کا ثبوت ہے۔آپ نے اس ضمن میں اپنی جوابی تقریر میں صرف اسی پر اکتفا کیا کہ پچھلے اجلاس میں میرے فاضل دوست مسٹر سیلواڈ نے اپنی تقریر میں میرے متعلق کچھ درشت الفاظ استعمال کئے تھے۔اُن کے متعلق مجھے یہ کہنا ہے کہ میں مسٹر سیلواڈ کو عرصہ سے جانتا ہوں۔جب میں ہندوستان کی فیڈرل کورٹ کا جج تھا تو مجھے بارہا اُن کے دلائل سننے کا اتفاق ہوا۔میری رائے میں مسٹر سیلواڈ ہندوستان کے قابل ترین وکیل ہیں۔اور درشت کلامی ان کا شعار نہیں اس موقع پر اُن کے موقف کی کمزوری کو جانتے ہوئے ان کی مشکلات کا اندازہ کر سکتا ہوں۔مسٹر سیلواڈ کی 341