کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 336 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 336

ہیں۔۔۔اور اس کے بعد بڑی وضاحت سے تمام پس پردہ حالات کھنگالنے شروع کئے۔چوہدری صاحب موصوف ذاتی طور پر مظلومین کشمیر کی داستان سے آگاہ تھے۔وہ 1931ء کی تحریک آزادی کشمیر میں بھی آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے تحت شاندار خدمات انجام دے چکے تھے۔اور اس زمانہ میں مظلوم مسلمانان کشمیر کی داستان جانگزا انگلستان میں پارلیمنٹ کے ارکان اور برطانوی کا بینہ پر واضح کر چکے تھے۔آپ نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ کس طرح انگریزوں نے ایک حقیر رقم کے عوض خطہ کشمیر راجہ گلاب سنگھ ڈوگرہ کے ہاتھ فروخت کیا جس پر ڈوگرہ راجہ نے اس خطہ ارض پر بسنے والے تمام انسانوں کو بھی بھیڑوں بکریوں کی مانند اپنے زرخرید سمجھا اور انہیں تمام ابتدائی انسانی حقوق سے محروم کر کے بُری طرح مظالم کی چکی میں پیسا۔اور ایسی ایسی چیرہ دستیاں کیں جن کے تصور سے بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔آپ نے کہا: کشمیریوں کی اعلیٰ فنی صلاحیتوں کا تو ہر کس و ناکس کو علم ہے۔چیز پر لیکن جس چیز کا انہیں علم نہیں وہ ایک صدی پر پھیلے ہوئے ڈوگرہ راج کے مظالم ، کشمیریوں کی ناگفتہ بہ حالت نکبت، افلاس اور ان سے ہمہ وقت روا رکھے جانے والا تشدد ہے جن کی روشنی میں یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اُن کے لئے موت یا زندگی دونوں میں سے کونسی چیز بڑا المیہ ہے۔کیونکہ موت عموماً محرومیوں کی نہ ختم ہونے والی زنجیر سے نجات مہیا کرتی ہے۔اور نکبت و مفلوک الحال مہد سے شروع ہو کر لحد ہی میں ختم ہوتی ہے۔“ ( ترجمہ رپورٹ ہائے سیکورٹی کونسل 1948، صفحہ 47) 340