کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 324 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 324

کی کہ (۲) ہمیں آزاد کشمیر کی نوزائیدہ حکومت کی بھر پور اعانت کرنی چاہئے۔تو مسلم کانفرنس ہی کے ایک انتہائی ذمہ دار یہ کہتے ہوئے بھی سنے گئے تھے کہ مقرر کو ایسی غیر قانونی حکومت کے قیام کا اپنی تقریر میں یوں بر ملاذ کر نہیں کرنا چاہئے تھا۔ع قیاس کن زنگلستان من بهار مرا کاش کوئی منچلا اُن سے دریافت کرتا۔۔۔۔کہ جب کسی امن پسند شہری کے گھر پر غاصب اور ڈاکو حملہ آور ہوں اور گھر کے مکینوں کو نکال باہر کر کے اُس پر قبضہ کر لیں اور مالک مکان اپنا گھر چھین جانے کے بعد اُس کا کچھ حصہ زور بازو سے خالی کرا کے اُس پر دوبارہ قبضہ کر لے۔تو کیا یہ آئین کی خلاف ورزی ہوگی۔حیرت ہے جب جونا گڑھ کی مسلم ریاست کو ہضم کرنے کے لئے مسٹر سمل داس گاندھی کی سرکردگی میں جونا گڑھ کی ریاست سے باہر بمبئی میں متوازی حکومت بنائی گئی۔ایسے احباب کو اُس وقت اُس کے خلاف آئینہ اور غیر مستند ہونے کے اعتراض کیوں نہ سوجھے۔اور پھر جب بالآخر ہندوستان نے جونا گڑھ کو ہڑپ کر کے اپنے اندر ضم کر لیا۔تو ایسا کسی آئین اور قانون کے تحت کیا گیا تھا۔بے شک کشمیری قوم ہی نہیں پوری انسانیت شکر گزار ہے۔ان محسنوں کی جنہوں نے خدا داد فراست و بصیرت سے کام لیتے ہوئے عین وقت پر اقدام پر کر کے ریاست کا ایک حصہ واگزار کرالیا۔ورنہ جو حال جونا گڑھ منگرول منا در اور حیدر آباد کا ہوا ہے۔وہی حال کشمیر کا ہوتا۔اور پوری کی پوری ریاست ( بلکہ دوسرے الفاظ میں پاکستان کی شہ رگ ) ہندوستان کے قبضہ میں ہوتی اور کوئی استصواب کا نام لینا تو درکنار استصواب کے 328