کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 304 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 304

جنگ کے متعلق باخبر رہنا پڑتا تھا۔اور اکثر محاذ پر پہنچ کر ان کا دل بڑھانا پڑتا تھا۔جون 1948ء میں بٹالین کا قیام عمل میں آیا اور 10 جولائی 1948ء کو اُس کو بھمبر کے علاقہ میں محاذ جنگ باغسر (عسکری نام بربط ) پر بھجوا دیا گیا۔جہاں پہنچتے ہی جوانوں نے مورچے سنبھال لئے۔محاذ جنگ پر بٹالین کو پانچ کمپنیوں (نصرت، برکت ، تنویر شوکت اور عظمت) میں تقسیم کر دیا گیا۔اس وقت بھارتی فوجی نومینز لینڈ (No Mans Land) پر قابض تھے فرقان بٹالین کے جوانوں نے انہیں پہنچتے ہی چند شدید یورشوں کے بعد پیچھے دھکیل دیا۔آگے آنے والے جاسوسوں کا صفایا کر دیا اور ماحول پر پوری طرح مسلط ہو گئے۔دونوں طرف سے روزانہ گولہ باری تو خیر معمول تھا ہی۔دشمن کی فوج بمباری کا حربہ بھی آزمایا کرتی تھی لیکن فرقان بٹالین کے ارادے ایسے جوان تھے کہ دشمن کا کوئی حربہ بھی کامیاب نہ ہوا یہ اللہ تعالیٰ کا احسان تھا کہ اُس نے ہر جھڑپ اور ہر یورش میں فرقان بٹالین کو فوقیت عطا فرمائی یہاں تک کہ جب فرقان بٹالین دشمن سے اس کی پہاڑی ( ریچھ ) کو چھنے کے لئے ایک بڑے حملہ کی تیاری کر رہی تھی۔اقوام متحدہ کی مداخلت سے جنگ بندی کا اعلان ہو گیا اور جوانوں کے ولولے دل کے دل ہی میں رہ گئے۔امام جماعت احمدیہ محاذ پر فرقان بٹالین کے رضا کاروں کو عام فوجیوں کی سی مراعات اور سہولتیں بھی حاصل نہ تھیں خوراک بھی نپی تلی ہی ملتی تھی۔گزارہ بھی بہت قلیل ملتا تھا۔لیکن ان کے لئے بھی یہی مسرت بہت تھی کہ ان کے ساتھ ان کے امام کی دعائیں تھیں جو ایک دفعہ خود جنگ کے ایام میں بھی اُن سے ملنے کے لئے محاذ پر پہنچے اور ان سے باتیں کیں انہیں جہاد کی برکات ذہن نشین کیں۔اس وقت تو 308