کشمیر کی کہانی — Page 289
کیونکہ تقسیم کی لکیروں کا فیصلہ تو مسٹر ریڈ کلف پہلے ہی کر چکے ہیں یا اُن سے کروایا جاچکا اس پر چوہدری صاحب نے اُن کی طرف استفہامیہ نگاہوں سے دیکھا تو انہوں نے بتایا کہ کل مسٹر ریڈ کلف نے ہوائی جہاز کے ذریعہ ایک علاقہ دیکھنے کا ارادہ ظاہر کیا۔میں نے زوردیا کہ وہ اپنے ساتھ اس پرواز میں دوسرے ارکان کمیشن کو بھی شامل کر لیں۔پہلے تو انہوں نے عذر کیا کہ جہاز چھوٹا ہے۔اس میں نشستیں کم ہیں۔وغیرہ وغیرہ لیکن جب میں نے کہا بصورت دیگر انصاف کا تقاضا پورا نہ ہو گا تو وہ دو ارکان کمیشن کو اپنے ساتھ بٹھانے پر رضا مند ہو گئے جن میں مسلمانوں کی طرف سے ایک میں تھا۔لیکن آج صبح جب ہم سب والٹن کے ہوائی اڈہ پر پہنچے تو مطلع بہت گرد آلود تھا۔پائلٹ نے بعد اعزاز عرض کیا کہ میں آپ کو لئے تو چلتا ہوں لیکن گرد وغبار کے باعث آپ کو اوپر سے نیچے کچھ نظر نہیں آئے گا۔اس پر مسٹر ریڈ کلف نے پرواز منسوخ کر دی۔پائلٹ کو اس پرواز کے لئے جو ہدایات دی گئی تھیں اور جو نقشہ اس کے پاس تھا۔وہ کسی طرح مسٹر جسٹس دین محمد کے ہاتھ لگ گیا۔اس نقشہ پر جو لائن لگی ہوئی تھی۔وہ یقین کرتے تھے کہ یہی وہ لائن ہے جو بالا بالا حد بندی لائن طے پا چکی ہے۔ظاہر ہے یہ امر چوہدری صاحب موصوف کے لئے بھی حیرت آفریں تھا کہ ابھی تو فریقین نے بیان بھی داخل نہیں کئے ریڈ کلف کو یہ کیونکر پتہ چل گیا کہ فلاں فلاں علاقے متنازعہ ہیں یقیناً حد بندی کے لئے انہیں پہلے ہی بریف کیا جا چکا ہے۔بلکہ حد بندی لائن تجویز بھی کر دی گئی ہے۔جس کے مطابق بہت سا ایسا علاقہ جس میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔(بالخصوص ضلع گورداسپور کی تحصیلیں بٹالہ اور گورداسپور ) پاکستان میں شامل نہ ہوں گی۔چوہدری صاحب نے 293