کشمیر کی کہانی — Page 288
کمیشن کا چیئر مین مقرر کر دیا گیا۔پنجاب باؤنڈری کمیشن میں ان کی امداد کے لئے مسلمانوں کی طرف سے پنجاب ہائی کورٹ کے دو جج مسٹر جسٹس محمد منیر اور مسٹر جسٹس دین محمد ، ہندوؤں اور سکھوں کی طرف سے مسٹر جسٹس مہر چند مہاجن اور مسٹر جسٹس تیجا سنگھ ارکان کمیشن نامزد ہوئے۔لیکن جب اس کمیشن کی کارروائی شروع ہونے سے قبل یہ اعلان منظر عام پر آیا کہ مسٹرریڈ کلف خود کمیشن کی عملی کارروائی میں حصہ نہیں لیں گے تو صوبے کے ہر ذی شعور پر یہ بات واضح ہوگئی کہ کمیشن کا تقر محض ایک ڈھونگ ہے بلکہ بعد کی کارروائی اور ایمپائر کے طرز عمل نے یہ ثابت بھی کر دیا کہ واقعی یہ سب کارروائی ایک ڈھونگ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔کمیشن نے فریقین کو اپنا اپنا کیس تحریری طور پر پیش کرنے کے بعد بحث کے لئے صرف تین تین دن دیئے لیکن کمیشن کی کارروائی شروع ہونے کے دوسرے ہی دن ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے کمیشن کے مسلم ارکان کو پریشان کر دیا اور خود اُن پر بھی اس ساری کارروائی کا محض ڈھونگ ہونا واضح ہو گیا۔تقسیم کا فیصلہ تو ہو ہی چکا تھا۔اور جس طرح ہوا یا کیا گیا اُس کا سارا پس منظر بھی چو ہدری محمد ظفر اللہ خان نے اپنی خود نوشت سوانح حیات موسوم بہ تحدیث نعمت میں تفصیل کے ساتھ بیان فرما دیا ہے۔اب دیکھنا یہ باقی رہ گیا تھا کہ اس ڈھونگ کو بروئے کار کیونکر لایا جاتا ہے۔تقسیم پنجاب کی لائن کمیشن کی کارروائی کے دوسرے دن کمیشن کے ایک مسلمان رکن مسٹر جسٹس دین محمد ، چوہدری محمد ظفر اللہ خان سے ملے اور کہا کہ آپ کا مدلل بیان اور مسکت و وزنی دلائل سے بھر پور بحث کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد ہونا ممکن نہیں۔292