کشمیر کی کہانی — Page 264
اور ٹھیکوں وغیرہ میں حق نہ دلاتا ہو۔جو سمجھوتہ اس امر کو مدنظر نہیں رکھتا وہ نہ کامیاب ہوسکتا ہے اور نہ امن پیدا کر سکتا ہے۔عوام لیڈروں کے لیے قربانی کرنے میں بے شک دلیر ہوتے ہیں لیکن جب ساری جنگ پیٹ کے لیے ہو اور پیٹ پھر بھی خالی کا خالی رہے تو عوام الناس زیادہ دیر تک صبر نہیں کر سکتے۔اور ان کے دلوں میں لیڈروں کے خلاف جذ بہ نفرت پیدا ہو جاتا ہے اور ایسے فتنہ کا سدِ باب کر دینا شروع میں ہی مفید ہوتا ہے۔یہ میرا مختصر مشورہ مسلمانانِ کشمیر کو ہے وہ اپنے مصالح کوخوب سمجھتے ہیں اور سمجھ سکتے ہیں۔میں تو اب کشمیر کمیٹی کا پر یذیڈنٹ نہیں ہوں اور یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ آیا کشمیر کمیٹی کی رائے اس معاملہ میں کیا ہوگی لیکن سابق تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے مشورہ دینا مناسب سمجھا۔عقلمند وہی ہے جو پہلے سے انجام دیکھ لے۔میرے سامنے سمجھوتہ نہیں نہ صیح معلوم ہے کہ کن حالات میں اور کن سے وہ سمجھوتہ کیا گیا ہے میں تو اخبارات میں شائع شدہ حالات کو دیکھ کر یہ نتیجہ نکالتا ہوں کہ اس طرح کا سمجھوتہ مسلمانوں اور غیر مسلموں میں ہوا ہے۔اور اس کے مطابق اب دونوں قو میں مشترکہ قربانی پر تیار ہو رہی ہیں۔پس میں اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ قربانی ایک مقدس شے ہے اور بہت بڑی ذمہ داریاں اپنے ساتھ رکھتی ہے مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کو اچھی طرح سوچ لینا چاہیے کہ وہ کس امر کے لیے قربانی کرنے لگے ہیں اور یہ کہ وہ اس امر کونباہنے کی طاقت رکھتے ہیں یا نہیں اور کہیں ایسا تو نہیں کہ موجودہ سمجھوتہ بجائے پریشانیوں کو کم کرنے کے نئی پریشانیوں کو پیدا کر دے۔انگریزی کی ایک مثل ہے کہ کڑاہی سے نکل کر آگ میں گرا۔سو یہ دیکھ لینا چاہیے کہ جد و جہد کا نتیجہ یہ ہے کہ سب کڑاہی سے نکل آئیں گے یا یہ کہ بعض کڑائی سے نکل کر باہر آجائیں گے اور بعض آگ میں گر کر بھونے 268