کشمیر کی کہانی — Page 251
ناقص صورت میں ہی سہی۔تاہم جمہور کے نمائندوں کی اسمبلی کا قیام عمل میں آیا اور اب تو مسلمانوں کو ملازمتوں میں بھی ان کا کچھ حصہ ملنے لگا تھا۔لیکن جب تک مقصد وحید کا ملاً حاصل نہ ہوجاتا نہ جدوجہد ختم ہوسکتی تھی اور نہ مسلمانانِ کشمیر ہی ابھی اس پوزیشن میں تھے کہ بیرونی امداد سے مستغنی ہوسکیں۔چنانچہ صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کی دور بین نگاہ نے ان تمام مراحل کو بھانپتے ہوئے ایسوسی ایشن کی خواہش اور درخواست پر ہر نوع کی مالی ذمہ داری بدستور اپنے سر لیے رکھی۔بلکہ یہ سلسلہ ایسوسی ایشن کے ختم ہو جانے کے بعد اُسی خلوص لگن اور جوش کے ساتھ جاری رہا۔ریاستی ملازمتوں میں مسلمانوں کے کم از کم حصہ کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس مظلوم قوم میں اعلیٰ تعلیم کی کمی تھی اور یہ کمی ہوتی بھی کیوں نہ ریاستی ظلم و تعدی نے انہیں شریفانہ گذر اوقات کے بارے میں مطمئن ہونے دیا ہوتا تو وہ اعلیٰ تعلیم کے بارے میں سوچ سکتے مگر ان کے اس محسن کی نگاہ سے اُن کی زندگی کا یہ گوشہ بھی اوجھل نہ رہا۔فور اذہین ومستحق طلبہ کی تعلیمی امداد کا سلسلہ جاری کیا گیا جو خدا کے فضل سے اس ذوق و شوق سے ۴۷ ء تک جاری رہا۔ان تعلیمی ومعاشرتی اور اقتصادی خلاؤں کو پُر کرنے کے لیے آپ نے اپنی جماعت میں دوسرے لازمی چندوں کے ساتھ ساتھ کشمیر ریلیف فنڈ کا چندہ بھی جاری کیا جس میں چھوٹے سے چھوٹے احمدی ، مزدور، پیشہ ور ملازم اور تاجر سے لے کر بڑے سے بڑے افسر اور ذی استطاعت احمدی نے اپنی مقدور کی انتہا تک حصہ لیا۔مرکز میں اس فنڈ کا حساب کتاب رکھنے کے لیے باقاعدہ ایک شعبہ قائم تھا۔جس کے فنانشل سیکرٹری چودھری برکت علی خاں صاحب مرحوم تھے۔اُن کے وصال کے بعد اس خدمت کی سعادت راقم الحروف کے حصہ میں آئی۔ذالک فـضـل الله يوتيه من يشاء 255