کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 237 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 237

(احرار نے مسجد شہید گنج یا دوسرے مواقع پر جو رویہ اختیار کیا یا پاکستان کے قیام کے وقت انہوں نے مسلمانوں کی مخالفت کے لئے جو سر دھڑ کی بازی لگائی اس کی تفصیل کی یہاں ضرورت نہیں کیونکہ راقم الحروف صرف کشمیر کی کہانی لکھ رہا ہے۔مندرجہ بالا حقائق اس لئے لکھنے ضروری تھے کہ جب ان لوگوں نے آل انڈیا کشمیر کمیٹی میں افتراق پیدا کیا اُن دنوں جمہور مسلمان انھیں کیا سمجھتے تھے۔ان لوگوں نے کشمیریوں پر دوسری مرتبہ ظلم عظیم کیا اور آزادی تحریک کو پیچھے ڈالنے کے لئے ریاست کے ممد و معاون ہوئے۔ظا) ریاست کے فدا کار ” کشمیر کے لیے احرار کی فدا کاریوں کے ضمن میں اس چیلنج کا ذکر بھی دلچسپی کا باعث ہو گا جو ان میں سے ایک دوست حافظ محمد شاہ نے ارنومبر ۳۴ء کو لا ہور کے پر رونق جلسہ میں دیا۔حافظ صاحب نے فرمایا:۔وو میں احراری تحریک کے مرکزی شہر سیالکوٹ کا رہنے والا ہوں۔اور ان کی قومی خدمات سے بخوبی آگاہ ہوں میرے پاس احراری قائدین کی تحریرات پرائم منسٹر کشمیر مسٹر مہتہ اور دیگر حکام کے ساتھ ان لوگوں کی خفیہ خط و کتابت کے فائل اور رجسٹرات تک موجود ہیں۔جن سے ان کی قومی خدمات کی قلعی پوری طرح کھل جاتی ہے پس بہتر ہے کہ وہ قومی خدمات کی رٹ لگانا چھوڑ دیں۔۔کمیٹی احرار کے قبضہ میں آنے کے بعد 66 مہاراجہ نے یہ خیال کیا تھا کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے محترم صدر مرزا بشیر الدین محمود احمد 241