کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 236 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 236

پر کھڑا کرنے کا فیصلہ کیا۔لیکن احرار کا یہ فعل خود اُن کے لیے جس قدر بدنامی اور رسوائی کا موجب ہوا ہے اسے دیکھتے ہوئے وہ یقیناً اپنے اس فیصلہ پر پشیمان ہوگی۔میاں امیر الدین صاحب نے احرار اُمیدوار کے متعلق اعتراض کیا کہ وہ سرے سے مسلمان ہی نہیں بلکہ عیسائی ہے۔احرار نے اس سے انکار کیا تو میاں صاحب نے اپنے دعوی کے ثبوت میں کئی معزز عیسائی بطور گواہ پیش کر دیئے۔ریور ینڈ سائیں داس کرسچن مشنری نے شہادت دی کہ اُس نے ۱۹۲۵ء میں بمقام راولپنڈی اس شخص کو بپتسمہ دیا تھا۔پادری ٹھا کر داس نے کہا کہ یہ شخص جولائی ۱۹۳۴ء تک نولکھا چرچ کا با قاعدہ ممبر رہا ہے۔اور برا بر چندہ دیتا رہا ہے۔پرنسپل ایف سی کالج نے کہا کہ انہوں نے امید وار مذکور کو اپنے کالج میں عیسائی ہونے کی وجہ سے ملازم رکھا ہوا تھا۔تخفیف کی وجہ سے جب اسے علیحدہ کیا گیا تو اس نے ایک خط میں مجھے لکھا کہ میں اسلام کو چھوڑ کر عیسائی ہوا تھا۔لیکن پھر بھی میرے روزگار کا کوئی خیال نہیں کیا جاتا۔ایک لون سوسائٹی کے سیکرٹری نے بیان کیا کہ ہماری سوسائٹی صرف عیسائیوں کو قرضہ دیتی ہے۔اور اُمید وار مذکور کئی بار اس سوسائٹی سے قرض لے چکا ہے۔اور اس قدر شواہد کے بعد احراری امیدوار نے بھی دبی زبان سے اقرار کر لیا میں نوکری کی خاطر عیسائی ہوا تھا۔مگر حقیقت میں مسلمان ہی ہوں۔لیکن بیتسمہ لینے کے بعد حقیقت میں مسلمان ہونے کے چونکہ کوئی معنی نہیں اس لیے الیکشن آفیسر نے احراریوں کے نمائندہ کو عیسائی قرار دے کر اس کے مسلم حلقہ سے کھڑا ہونے کی درخواست مسترد کردی۔۔۔۔۔۔240