کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 235 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 235

رہے ہیں۔خلافتی بھی بن چکے ہیں۔اور پھر ہر جگہ دھتکارے جانے کے باعث آخری غدار و خائن ملت جماعت احرار اسلام میں شامل ہوئے۔کپورتھلہ میں جو کچھ ہوا وہ انہی چند ایک اشخاص کی بدولت ہوا۔جنہیں احراری لیڈر کہا جاتا ہے۔حبیب الرحمن نے بھی اس میں پر زور حصہ لیا۔اور اسلامیان کپورتھلہ کو بھڑکا کر مقامی حکومت سے متصادم کرایا مسلمانوں پر جو آتش بازی ہوئی وہ ان لوگوں کی آتش بار تقریروں کا ہی نتیجہ تھا ( سیاست ۷ا / جولائی (۳۴ روز نامہ انقلاب نے ستمبر ۳۴ء میں ان سے اس طرح شکایت کی: وو اگر مسلم کا نفرنس والے ۲۹ء میں مسلم رائے کو منظور کر کے مقابلہ میں جمع نہ ہو جاتے تو احرار اور ان کے رفقاء کی فدائیت اور حزب اللہ بیت ۲۹ ء ہی میں نہرور پورٹ کا پھندا مسلمانوں کے گلے میں ڈال کر انہیں پھانسی لڑکا چکی ہوتی “ ( انقلاب ستمبر ۳۴ء) احرار کا شاندار کارنامه فرمالیں: نومبر ۳۴ء کے اخبارات نے احرار کا ایک شاندار کارنامہ شائع کیا۔وہ بھی ملاحظہ وو ان دنوں میں بلدیہ لاہور کے الیکشن کے لیے امیدواروں کی درخواستیں پیش ہو رہی ہیں۔مسلم سٹی وارڈ حلقہ بارودخانہ سے میاں امیر الدین بلا مقابلہ منتخب ہوا کرتے تھے۔لیکن اب کے میاں صاحب موصوف نے چونکہ انتخاب اسمبلی میں خان بہادر رحیم بخش کی امداد کی۔اس لیے مجلس احرار نے اس حلقہ سے اپنا امیدواران کے مقابل 239