کشمیر کی کہانی — Page 234
احراری اس وقت کانگرس کے ممبر ہیں۔سرکردہ مسلمان احراریوں کے متعلق کیا خیال رکھتے ہیں۔اس کا پتہ مسٹر گابا کے نام ممدوٹ کے نواب شاہ نواز خاں کے خط سے پتہ چلتا ہے۔نواب صاحب کے خط کا مضمون یہ ہے اسمبلی کے انتخابات میں میں نے آپ کی حمایت کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس شرط پر کہ اگر آپ کے مقابلہ میں آپ سے بہتر کوئی امیدوار کھڑا نہ ہوا۔اب جب کہ حاجی رحیم بخش آپ کے مقابلے میں کھڑے ہو گئے ہیں۔میں انہیں آپ پر ترجیح دیتا ہوں۔آپ احرار ٹکٹ پر کھڑے ہور ہے ہیں۔پچھلے تجربہ کی بنا پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ احراریوں کی پالیسی مسلم مفاد کے خلاف رہی ہے اس لیے میں آپ کی امداد نہیں کر سکتا۔۔۔(انقلاب ۱۴ را گست ۶۳۴) مسلم پریس کی آراء احراریوں کی جمہور مسلمانوں کے خلاف ضرررساں کاروائیوں کی وجہ سے مسلم پریس بھی سخت نالاں تھا روز نامہ ”سیاست“ کا ر جولائی ۳۴ ء اس کا گلہ اس طرح کرتا ہے:۔دور ہیجان واضطراب مسلمین میں ہزاروں ایسی ہستیاں پیدا ہوگئی ہیں۔جنہوں نے مسلمانوں کی حالت اضطرار سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے دہڑی دہڑی کر کے اُن کو لوٹا۔پُر جوش تقریریں کر کے انہیں مختلف حکومتوں سے ٹکرایا۔ان کے گھر بار تباہ کرائے۔اور آخر میں جب انہیں دوزخ شکم کے لیے ایندھن فراہم ہو چکا تو خاموشی سے پیشاب کی جھاگ کی طرح بیٹھ گئے۔ازاں جملہ ایک حبیب الرحمن لدھیانوی ہیں۔یہ ذات شریف کا نگرسی بھی 238