کشمیر کی کہانی — Page 203
بشیر الدین محمود احمد صاحب کی صدارت میں ہوا۔اس اجلاس میں سید محسن شاہ ایڈووکیٹ لاہور۔ملک برکت علی ایڈووکیٹ لاہور۔پروفیسرمحمد علم الدین سالک۔مولانا اسمعیل غزنوی۔مولانا غلام رسول مہر۔ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ۔شیخ نیاز علی ایڈووکیٹ۔سید زین العابدین۔خان بہادر سید مقبول شاہ۔مولانا جلال الدین شمس اور ڈاکٹر محمد عبد الحق شریک ہوئے۔مولانا مہر کو عارضی طور پر قائم مقام سیکرٹری مقرر کیا گیا۔اور پہلے سیکرٹری کے متعلق یہ قرارداد منظور ہوئی۔کشمیر کمیٹی کا یا جلاس مولانا عبدالرحیم در دایم۔اے سیکرٹری آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی بے غرضانہ خدمات اور ان کی انتھک کوششوں کا شکر یہ ادا کرتا ہے اور ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ ان خدمات کا اجر وو عظیم عطا کرے۔۔۔66 اس اجلاس میں اور بھی نہایت اہم فیصلے ہوئے۔مثلاً ایک متعصب شخص مسٹر مہتہ کو وزیر مقرر کئے جانے پر احتجاج۔مظلومین کشمیر کے ساتھ ہمدردی۔مظلومین پونچھ کو مشورہ۔مسٹر لاتھر کا شکریہ اور مسٹر کالون کو دو ماہ کے اندر حالات بہتر بنانے کی تاکید سے متعلق قراردادیں منظور ہوئیں۔انگریز وزیراعظم مسٹر کالون کے متعلق اس اجلاس میں جو قرار داد منظور ہوئی اس میں کہا گیا تھا:۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی رائے ہے کہ کشمیر میں انگریز وزیراعظم مقرر ہوئے کافی وقت گزر چکا ہے۔وہ اس عرصہ میں بخوبی حالات کو دیکھ سکتے اور ان کی اصلاح کے لیے کوشش کر سکتے تھے۔لیکن کمیٹی افسوس سے اس امر کا اظہار کرنے پر مجبور ہے کہ انھوں نے کوئی خاص کام ایسا نہیں کیا جو مسلمانوں کو اس امر کی اُمید دلائے کہ کسی قریب عرصہ میں مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت ہو جائے گی۔اب تک ملازمتوں کے دینے میں سابقہ 207