کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 185 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 185

ہاتھوں تنگ ہونے کے باوجود شریک ہوں تا کہ کوئی متفقہ طریق کار تجویز کرسکیں۔اور اپنے حقوق کی حفاظت اور اپنی عزت و آبرو کی بحالی کے لیے انہوں نے جو کام شروع کر رکھا ہے۔اور جس کی خاطر تھوڑے عرصہ میں انہوں نے نہایت شاندار جانی اور مالی قربانیاں پیش کی ہیں وہ مکمل ہو سکے۔“ ( الفضل ۲۵ ستمبر ۱۹۳۲ء) جموں میں مخالف عناصر کانفرنس کی تیاری کے دوران مختلف مراحل پر مشکلات بھی پیدا ہورہی تھیں۔سری نگر اور جموں ہر دو جگہ تھوڑی بہت مخالفت بھی تھی۔اس اثناء میں ۱۵ ستمبر ۳۲ء کو تالاب کھٹیکاں میں ایک جلسہ منعقد ہوا۔اس جلسہ کی جو روئیداد پنجاب کے اخبارات میں شائع ہوئی۔وہ سخت مغالطہ پیدا کرنے والی تھی۔شیخ محمد عبد اللہ پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے حکومت ریاست کو لکھ کر یہ تجویز دے دی ہے کہ اگر ” گلاسی کمیشن کی رپورٹ کو عملی جامہ پہنا دیا جائے تو میں ایجی ٹیشن بند کر دوں گا۔حالانکہ اس کا نفرنس کے انعقاد کی تو غرض ہی سراسر مختلف اور جدا گانہ تھی۔" چودھری غلام عباس صاحب کا بیان یہ الزام سراسر غلط اور بے بنیاد تھا۔تا ہم جو غلط نہی پیدا کر دی گئی تھی اس کا ازالہ ضروری تھا۔چودھری غلام عباس نے اخبار ” پاسبان جموں میں جو ایک محب وطن ایم معراج دین اور مولانا عبدالمجید قریشی کی کوششوں سے جموں میں جاری ہو چکا تھا اس بارے میں ایک مدلل اور مبسوط بیان شائع کرایا جس میں ان تمام غلط فہمیوں کا ازالہ کر کے کانفرنس کو کامیاب بنانے کی پر زور تحریک کی تھی۔چودھری صاحب نے اس بیان میں لکھا: 189