کشمیر کی کہانی — Page 178
کی وجہ سے یہ خطرہ پیدا ہو چکا تھا کہ اگر ریاست میں جلد کوئی ایک منظم اور مربوط سیاسی جماعت قائم نہ کی گئی ( جو حقیقی معنوں میں ساری ریاست کی نمائندہ جماعت ہو) تو کسی وقت بھی ریاست کے عمال نمائندوں میں پھوٹ ڈلوا کر انہیں کچلنے میں کامیاب ہوسکیں گے اور عوام کا ایثار، قربانیاں اور شہیدوں کا خون رائیگاں چلا جائے گا۔مسلم پولیٹکل کا نفرنس کی تجویز چنانچہ جولائی ۳۲ ء کے پہلے ہفتہ میں جب شیخ محمد عبد اللہ لا ہور تشریف لائے تو کشمیر کمیٹی کے صدر محترم سے اس موضوع پر بھی سیر حاصل گفتگو کی۔پوری سکیم مرتب کی گئی اور فیصلہ ہوا کہ دوماہ کے اندر اندر جملہ انتظامات مکمل کرنے کے بعد سری نگر کے مقام پر ایک آل جموں و کشمیر مسلم پولیٹکل کا نفرنس منعقد کی جائے جس میں ریاست کے ہر حصے اور ہر طبقے کے نمائندوں کو شامل کیا جائے۔اور پھر اسی کا نفرنس کو مستقل جماعت کی شکل دے دی جائے۔شیخ محمد عبد اللہ نے واپس سری نگر پہنچتے ہی اپنے ہم خیال لوگوں سے تبادلہ خیالات کیا۔بیشتر نو جوانوں اور بزرگوں نے انہیں اس مہم میں ہر طرح تعاون کا یقین دلایا۔آج ان لوگوں کے خیالات چاہے کچھ ہوں کم از کم اس وقت تو سب کے سب یک جان ہو کر کام کرنے لگے تھے۔مولوی عبد اللہ وکیل، مولوی عبدالرحیم ایم۔اے مفتی جلال الدین ایم۔اے بخشی غلام محمد، خواجہ غلام نبی گلکار، مسٹر محمد یوسف ( علیگ) ، غلام قادر ڈکٹیٹر، مفتی ضیاء الدین ضیاء محمد یی رفیقی ، میر غلام محی الدین ، میر مقبول بہیقی ، اور پروفیسر مولوی محمد سعید ، یہ سب مل کر کام کر رہے تھے۔اس کے بعد بیرونی علاقوں کی طرف توجہ کی گئی۔شوپیاں کے علاقہ میں خواجہ عبدالرحمن ڈار اور ان کے بھائی عبدالعزیز ڈار اور مولوی بشیر احمد۔۔۔۔اسلام آباد میں مرزا افضل بیگ ،مظفر آباد میں سید پیر حسام الدین اور میاں احمد یار گلگت میں خواجہ عبد الغنی پونچھ 182