کشمیر کی کہانی — Page 165
کی ہیں۔خواہ وہ مسلمانوں کے مرض کا پورا علاج نہ بھی ہوں۔۔۔گلینسی رپورٹ کے متعلق لکھا:۔وو 66 میں امید کرتا ہو کہ دوسری گلینسی رپورٹ ایک نیا دروازہ سیاسی میدان کا مسلمانوں کے لیے کھول دے گی اور گو وہ بھی یقیناً مسلمانوں کی پورے طور پر دادرسی کرنے والی نہ ہوگی لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ بھی ان کی زندگی کے نقطہ نگاہ کی کو بدلنے والی اور آئندہ منزل کی طرف ایک صحیح قدم (ہاں مگر ایک چھوٹا قدم ) ہوگی۔۔۔اللہ والوں کی کوششیں 66 ایم فیض احمد گو خاموش طبع تھے اور مذہبی مشاغل میں ہی مصروف رہتے تھے۔لیکن اس بزرگ نے سیاسی میدان میں بھی کام کیا ہے۔آنحضرت وہ روحانیت کے شہنشاہ ہونے کے علاوہ سیاست کے بھی تاجدار تھے۔آپ کا یہ دستور تھا کہ جنگوں اور سیاسی مہمات میں راز داری اور اخفاء سے کام لیتے تھے۔ایم فیض احمد کے کام بھی اسی قسم کے تھے۔جن کا راقم الحروف کو علم تو ہے لیکن بیان کرنے کا یہ محل نہیں۔وہ کشمیر کمیٹی اور مسلم نمائندگان کشمیر میں ایک طرح ناظم رابطہ کی حیثیت رکھتے تھے۔جس قدر قاصد بھجوائے جاتے یا وہاں سے ریاست میں آتے ان کا ہیڈ کوارٹر انہی کا گھر ہوتا تھا۔مولا نا محمد الدین اور ٹلمینسی سادگی اور بے لوث خدمت اپنے اندر کس قدر طاقت رکھتی ہے۔اس کی ایک مثال پیش ہے گلینسی کمیشن کا کام قریب ختم ہو چکا تھا۔لیکن ابھی رپورٹ مہاراجہ کونہ کی تھی۔جناب صدر کشمیر کمیٹی نے مولانامحمد الدین (سابق مسلم مشنری امریکہ ) کو مٹر گلینسی کے پاس جموں 169